.

شام کے شمال مشرق میں کردوں کی خودمختار حکومت کا اعلان

عبوری انتظامیہ مقامی انتخابی قوانین وضع اور انتخابات کی تیاری کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرق میں آباد کردوں نے صدر بشارالاسد کی مسلح افواج سے برسرپیکار باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں حالیہ کامیابیوں کے بعد ایک عبوری خود مختار حکومت کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔

شامی کردوں کی جانب سے محدود پیمانے پر خود مختار حکومت کے قیام کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پڑوسی ملک ترکی میں ان کے ہم نسلوں کو زیادہ حقوق دینے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ عراق کے خودمختار کردعلاقے کے حکام اور عوام کی جانب سے مکمل آزادی کے لیے آوازیں سر اٹھارہی ہیں۔

شامی کرد صدر بشارالاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے دور حکومت میں قہروجبر کا شکار رہے ہیں۔انھیں ملک میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں پہلی مرتبہ ایسا موقع نظر آیا ہے جب وہ مکمل آزادی کی جانب پیش رفت کرسکتے ہیں۔

کرد لیڈروں اور قبائلی عمائدین کی جانب سے خودمختارعبوری حکومت کے قیام کا فیصلہ کرد اکثریتی شہر قامشیلی میں بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔عبوری خودمختار حکومت شامی کردوں کے تین علاقوں میں قائم کی گئی ہے۔ان میں سے ہر ایک کی مقامی اسمبلی ہوگی اور علاقائی انتظامی باڈی کے لیے منتخب نمائندے ہوں گے۔

کرد لیڈروں کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں مغربی کردستان شام کے علاقے میں عبوری سول حکومت کی تشکیل سے متعلق تفصیل درج ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ قامشیلی میں دوروز قبل اجلاس ہوا تھا اور اس میں کردستان ڈیمو کریٹک یونین (پی وائی ڈی)کی جانب سے جولائی میں پیش کردہ عبوری حکومت کے منصوبے پر غور کیا گیا تھا۔

''عبوری انتظامیہ کی بنیادی ذمے داری یہ ہوگی کہ وہ مقامی انتخابی قوانین وضع کرے گی اور عام انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں کرے گی۔اس کے علاوہ خطے اور شام میں سیاسی ،فوجی ،سکیورٹی اور اقتصادی ایشوز سے متعلق اقدامات کرے گی''۔بیان میں کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کرد شام کی کل آبادی کا 15 فی صد ہیں اور وہ زیادہ تر ملک کے شمالی حصے میں ہی رہ رہے ہیں۔صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے 2012ء کے وسط میں کردستان کے علاقے خالی کردیے تھے جس کے بعد سے مقامی کرد کونسلیں ان کا انتظام چلا رہی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل شامی فوج کو ایک مرتبہ پھر علاقے میں بھیجا گیا تھا اور اس کا بڑا مقصد کردوں کوباغی جنگجوؤں کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد سے روکنا تھا حالانکہ حال ہی میں کردوں اور جہادی گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔گذشتہ ماہ کردوں نے عراق کے ساتھ ایک اہم بارڈر پوائنٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور وہ لڑائی میں جہادی گروپوں کو شکست دینے میں کامیاب رہے تھے۔