.

مجھے برطرفی سے قبل فوجیوں نے اغوا کر لیا تھا: ڈاکٹرمحمد مرسی

تین روز تک ری پبلکن گارڈ کے مکان اور پھر چار ماہ ایک فوجی اڈے پر رکھا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے برطرف منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی سے ایک روز قبل ہی اغوا کر کے ری پبلکن گارڈ کے ایک مکان میں محبوس کر دیا گیا تھا اور پھر تین روز بعد ایک نیول بیس پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر مرسی کے وکیل محمد الدماطی بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے موکل فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت اور فوجی انقلاب کے خلاف کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے مگر اس بات کا فیصلہ مستقبل میں ان کی دفاعی ٹیم کرے گی۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی شکایات پراسیکیوٹر جنرل کو پیش کریں گے اور انھیں بتائیں گے کہ یہ جرم ہے۔دماطی اور دوسرے وکلاء نے سوموار کو برج العرب جیل میں برطرف صدر سے ملاقات کی تھی۔ انھوں نے ٹیلی ویژن پر ڈاکٹر مرسی کا مصری عوام کے نام ایک خط بھی پڑھ کرسنایا۔

اس میں انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں ان کی مرضی کے برخلاف 2 جولائی ہی کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔اس سے اگلے روز 3 جولائی کو جنرل السیسی نے انھیں برطرف کردیا تھا۔اس کے بعد قاہرہ میں 4 نومبر کو عدالت میں پیشی سے قبل پورے چار ماہ تک منتخب جمہوری صدر کے بارے میں کوئی خیر خبر سامنے نہیں آئی تھی اور مصری حکام نے نہ یہ بتایا تھا کہ انھیں کہاں زیر حراست رکھا گیا ہے۔

وکیل دماطی نے بتایا کہ انتظامی عدالت میں جنرل عبدالفتاح السیسی کے ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے اقدام کی منسوخی کے لیے درخواست دائر کی جا سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مرسی پولیس اکیڈیمی (قاہرہ) میں قائم عدالت کو ابھی تک ماننے سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر مرسی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ''محترم مصری عوام کو جان لینا چاہیے کہ مجھے میری مرضی کے برخلاف 2 جولائی کو زبردستی اغوا کر لیا گیا تھا۔ پانچ جولائی تک مجھے ری پبلکن گارڈ کے ایک مکان میں محبوس رکھا گیا۔ اس کے بعد مجھے اور میرے ساتھیوں کو مسلح افواج کے تحت ایک نیول بیس پر منتقل کر دیا گیا اور وہاں ہمیں مکمل چار ماہ تک زیر حراست رکھا گیا''۔

معزول صدر اور ان کے ساتھ اخوان المسلمون کے چودہ مدعا علیہان کو دسمبر 2012ء میں قاہرہ میں واقع صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں گذشتہ اتوار کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ان پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں دس بارہ مظاہرین کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔