.

روس کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کی تاریخی دورے پر مصر آمد

دونوں وزراء مصری ہم منصبوں جنرل سیسی اور نبیل فہمی سے ملاقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور وزیر خارجہ سرگئی لاروف مصر کے دو روزہ تاریخی دورے پر بدھ کو قاہرہ پہنچے ہیں ۔وہ مصری وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی اور وزیر خارجہ نبیل فہمی سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

یہ دونوں روسی وزراء امریکا کی جانب سے مصر کو فوجی سازوسامان مہیا کرنے سے انکار اور 26 کروڑ ڈالرز کی امداد کی معطلی کے ایک ماہ کے بعد قاہرہ کا دورہ کررہے ہیں اور اس کو مصر اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قراردیا جارہا ہے۔

مصر نے امریکا کی جانب سے فوجی امداد کی معطلی پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اب زیادہ متوازن بین الاقوامی خارجہ پالیسی اختیار کرے گا۔ مصری وزیر خارجہ نبیل فہمی کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے ذریعے مصر کے لیے مختلف آپشنز کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

نبیل فہمی نے گذشتہ ماہ ماسکو کا دورہ کیا تھا جس کے بعد روس کا جنگی بحری جہاز وریاج اسی ہفتے اسکندریہ کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا ہے۔اس اقدام کو مصر اور روس کے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز قراردیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر امریکا کی جانب سے فوجی امداد کی معطلی کے بعد روس سے چار ارب ڈالرز کا اسلحہ اور فوجی ساز و سامان خریدنا چاہتا ہے۔روس کی خبررساں ایجنسی ریا نووستی نے اسلحہ برآمد کرنے والے سرکاری ادارے روسو بورنو ایکسپورٹ کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مصر کو نیا اسلحہ مہیا کرنے کا انحصار اس کی قوتِ خرید پر ہوگا۔

واضح رہے کہ مصر کے 1979ء تک سابق سوویت یونین (روس) کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے۔اسی سال مصر کے صدر انورالسادات نے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ کیا تھا جس کے بعد وہ امریکا کے زیادہ قریب ہو گئے تھے۔ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی بدولت مصر کو امریکا سے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی سالانہ امداد مل رہی ہے لیکن مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد امریکا نے اس امداد کا کچھ حصہ روک لیا ہے اور مصر کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اپنائے ہوئے ہے جس کے بعد مصر نے بھی اپنا رُخ روس کی جانب کر لیا ہے۔