.

ایران: پولیس کی شہریوں کے لباس کے معاملے میں مداخلت ختم

صدر روحانی اسے آئین کے خلاف اور منفی سرگرمی سمجھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحاانی نے پولیس کو خواتین پر ضابطۂ لباس (ڈریس کوڈ) زبردستی لاگو کرنے سے منع کر دیا ہے ۔انھوں نے یہ اقدام اپنی انتخابی مہم کےدوران عوام سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لیے کیا ہے۔ جس میں انھوں نے عوام پر مسلط غیر ضروری سختیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

یہ انکشاف معروف برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے اپنی اشاعت میں کیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس سے پہلے ایران کی گشتی رہنمائی کے لیے قائم پولیس کے ذمہ یہ فریضہ باضابطہ طور پر سمجھا جاتا تھا۔

اب صدر روحانی نے وزارت داخلہ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ لباس کے حوالے سے معیار متعین کرے ۔درایں اثناء پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ لباس کا نفاذ اب اس کی ذمہ داری نہیں رہا ہے۔ اب اس معاملے کو ایک سماجی کونسل دیکھے گی۔

واضح رہے ایران کی گشتی رہنمائی کا ادارہ 26 دوسرے اداروں کے ساتھ منسلک تھا۔ اسے آخلاقی پولیس کا بھی تعاون حاصل تھا، تاہم اپنے ضابطہ لباس کے نفاذ کی وجہ سے عام ایرانی اسے پسند نہیں کرتے۔

صدر نے اس ادارے کی طرف سے گشتی نگرانی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا کہ اس ادارے کی کارکردگی نے ایران کو منفی تشخص دیا ہے