جامعہ الازہر مظاہرہ، بارہ نوجوانوں کو سترہ سترہ سال قید

30 اکتوبر کومرسی کیلیے یونیورسٹی کے باہر مظاہرہ کرنے کا جرم کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی ایک عدالت نے 12 نوجوانوں کو سترہ سترہ برس کی سزا سنا دی ہے۔ ان نوجوانوں پر معزول صدر مرسی کی حمایت میں مصر کی سب سے بڑی جامعہ الازہر کے باہر احتجاج کرنے کا الزام تھا۔

مرسی کے حامیوں سے وابستہ ایک گروپ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو سنائی گئی اس سزا کے خلاف وہ اپیل کر سکتے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے حکام پر دباو ڈالنے کیلیے ہجوم کو اکٹھا کیا تھا تاکہ حکام قانون کی عملداری سے باز رہیں۔

ان نوجوانوں پر تخریب کاری، دھوکہ دہی اور حملہ آور ہونے کے بھی الزامات عاید کیے گئے تھے۔

واضح رہے 30 اکتوبر کو معزول کیے گئے صدر محمد مرسی کے حامی طلبہ و طالبات نے جامعہ الازہر کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس دوران ان مظاہرین نے پتھر پھینکے تھے اور سب سے برے امام کو برا بھلا کہا تھا۔

مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو مصر کے حالیہ برسوں میں ملنے والی سب سے کڑی سزا ہے۔ اس سے پہلے تین صحافیوں کو بھی مصری عدالت سزا سنا چکی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں