.

حزب اللہ کے جنگجو شام میں موجود رہیں گے:حسن نصراللہ

اسرائیل سنی اور شیعہ مسلمانوں کوایک دوسرے کو قتل کرتے دیکھ کر خوش ہورہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے جنگجو اس وقت تک شام میں موجود رہیں گے جب تک شامی صدر بشارالاسد کی فورسز کو باغیوں کے خلاف لڑائی میں ان کی خدمات درکار ہوں گی۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے میں یوم عاشور کے موقع اپنے ہزاروں پیروکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔وہ دوروز میں دوسری مرتبہ عوام میں نمودار ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''جب تک شام میں لڑائی کی وجوہات موجود رہتی ہیں،وہاں ہماری موجودگی برقرار رہے گی''۔گذشتہ روز حسن نصراللہ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ بڑی طاقتوں کا جوہری تنازعے پرکوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو پھر پورے خطے میں جنگ پھیل جائے گی۔

حسن نصراللہ بالعموم ویڈیو لنک کے ذریعے نمودار ہوتے اور اپنے پیروکاروں سے خطاب کرتے ہیں لیکن بدھ اور جمعرات کو وہ براہ راست عاشورے کے جلوسوں کے شرکاء سے مخاطب ہوئے ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل سنی اور شیعہ مسلمانوں کو آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے کو قتل کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہورہا ہے۔انھوں نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے شرطیں باندھنے والے عرب ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ آنے والے وقت میں غلط ثابت ہوں گے۔

ایران اور حزب اللہ بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے ان کی باغیوں کے خلاف لڑائی میں ہر طرح سے مدد کررہے ہیں،حزب اللہ نے تواسدی حکومت کی حمایت میں باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنے ہزاروں جنگجو شام میں بھیجے ہیں اور تنظیم کے سربراہ گذشتہ مہینوں کے دوران انکار کے بعد اب کھلے بندوں اس کا فخریہ اظہار کررہے ہیں کہ ان کے جنگجو شامی باغیوں کے خلاف لڑائی میں بھرپور طریقے سے شریک ہیں۔