.

شام: سرکاری فوج کی پیش قدمی، حلب کے اہم علاقہ پر قبضہ

دمشق کے مضافات میں بھی اہم گاوں کا کنٹرول حاصل کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی حامی افواج نے دارالحکومت کے جنوب میں واقع علاقہ حجیرہ سمیت اسلام پسندوں کے کنٹرول میں حلب کے شمالی گاوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ دمشق کے جنوب میں سرکاری فوج کی یہ کامیابی مجوزہ امن مذاکرات سے پہلے سرکاری افواج کی اہم کامیابی ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن اور المنار کے مطابق حزب اللہ کی مدد سے باغیوں کو حجیرہ سے نکال باہر کیا گیا ہے۔ ٹی وی چینلوں نے اس قبضے کی براہ راست فوٹیج بھی نشر کی ہے۔ فوٹیج میں سرکاری فوجیوں کا قبضہ یا پھر خالی گلیاں دکھائی گئی ہیں۔

دمشق کے جنوبی اضلاع جن پر باغیوں کا قبضہ ہے ایک ایک کر کے سرکاری فوج کے قبضے میں آ رہے ہیں۔

دوسری جانب شام کی بشاری افواج نے حلب میں بھی پیش قدمی جاری رکھی ہے۔ حلب کے دیہات تل حاصل، کو بدھ کے روز قبضے میں لیا گیا، جبکہ ایک فوجی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ آپریشن کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ باغیوں سے علاقہ واپس لیا جا سکے۔

اس فوجی افسر کے مطابق '' مقامی لوگ سرکاری فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں کیونکہ تل حاصل میں باغیوں نے شہریوں کے ساتھ بہت ناروا سلوک روا رکھا تھا۔''

واضح رہے تل حاصل حلب سے بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور جنگ سے پہلے اسے ملک کا اہم تجارتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔

ماہ ستمبر میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے بعد سے بشارالاسد کی افواج کی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے۔

ایک فوجی افسر کے مطابق دمشق کے قریب حجیرہ کا قبضہ دلچسپ رہا، پہلے حزب اللہ اور عراقی گروپ داخل ہوئے جبکہ سرکاری فوج بعد میں داخل ہوئی۔ اس موقع پر فوجی کیمروں کے سامنے مزے مزے سے '' پوز '' دیتے رہے۔''