.

شام کی وحدت اور آزاد حیثیت کیلیے لڑ رہے ہیں: شامی اپوزیشن اتحاد

خود مختاری کے حامی کردوں کے خلاف شامی اپوزیشن اتحاد کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن جماعتوں نے شام کے شمال میں بڑے علاقے پر قابض کرد گروپوں کی طرف سے خود مختاری کے اعلان کے بعد انہیں دشمن گروہ قرار دیا ہے۔

کرد ملیشیا میں زیادہ اثرات ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیں جو ترک باغی گروپ کردستان ورکر پارٹی کی برادر تنظیم ہے ۔ کردستان ورکر پارٹی شام کے شمال مغربی علاقے آفرین پر ایک سال سے زائد عرصے سے قابض ہے۔

ترک سرحد پر کمیشلی میں مذاکرات کے بعد یہ گروپ اپنی خود مختاری کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے سامنے عراق کا ماڈل ہے جہاں کرد معمولی خود مختاری حاصل کر چکے ہیں۔

کردوں کی ڈیموکریٹک یونین پارٹی شامی انقلاب کے ساتھ مخاصمت رکھتی ہے جبکہ شامی اپوزیشن اتحاد کو عرب دنیا اور مغربی ممالک تسلیم کرتے ہیں۔

اپوزشن اتحاد کا کہنا ہے کہ ''کردوں کا خود مختاری کا اعلان علیحدگی کا اقدام ہے جبکہ شام کے عوام ایک آزاد ، متحد شام کے لیے کوشاں ہیں جو شام کے موجودہ تمام علاقوں پر مشتمل ہو۔''

کرد شام کی مجموعی آبادی کا دس فیصد ہیں اور یہ شمالی علاقے آفرین سے کمیشلی تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح ترکی میں بھی ترک ایک اہم اقلیت کے طور پر موجود ہیں اور عراق اور ایران میں بھی موجود ہیں۔