.

فیصلہ کُن کامیابی کے لیے باغیوں اور سرکاری فوج میں گھمسان کی جنگ

حلب کی پانچ روزہ لڑائی میں دسیوں افراد ہلاک، ہوائی اڈے پر گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کےاہم شہر حلب میں پچھلے پانچ روز سے باغیوں اور اسد نواز فوجوں کے درمیان فیصلہ کن فتح کے لیے گھمسان کی لڑائی جاری ہے جس میں اب تک دسیوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بشار الاسد کی جانب سے بری فوج کے ساتھ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ، ابوالفضل عباس بریگیڈ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے جنگجو حصہ لے رہے ہیں جبکہ باغی فوجیوں کو القاعدہ کے مقرب خیال کیے جانے والے النصرہ فرنٹ اور داعش بریگیڈ کی معاونت حاصل ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حلب میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری فوج توپخانے سے گولہ باری کے ساتھ فضائی بمباری بھی کر رہی ہے۔ گذشتہ روز حلب میں الباب، ھنانو اور کوہ بدرہ میں سرکاری فوج نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ اس کے جواب میں باغیوں کی جانب سے "بریگیڈ 80" کے جنگجوؤں نے اسد نواز ملیشیا پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ سیکڑوں دیسی ساختہ راکٹ حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پھینکے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی رن وے تباہ ہونے کے ساتھ اڈے پر بھی جانی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔

درایں اثناء حلب پر قبضے کے لیے باغیوں نے اپنی تمام ترقوت کو مجتمع کر کے بھرپور حملے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں باغیوں کی جانب سے نفیرعام کا اعلان کیا گیا ہے اور تمام عسکری گروپوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حلب پر قبضے میں ان کی مدد کریں تاکہ پچھلے چند روز کے دوران ہونے والی فتووحات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

حماتہ شہر میں انقلابیوں کے میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ شہر کے شمال میں جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان سخت حملے ہوئے ہیں۔ جیش الحر نے الغربال، السمان اور اکفر کے مقامات پرسرکاری فوج کے ٹھکانوں پربھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی ہے۔ حملوں میں "گراڈ" میزائل بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ سرکاری فوج کی جانب سے شہر میں باغیوں کے ٹھکانوں اور شہری علاقوں پر پٹرول اور دھماکہ خیز مواد سے بھرے ڈرم جہازوں کے ذریعے گرائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

دارالحکومت دمشق سے ملنے والی اطلاعات کےمطابق صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے القدم کالونی کے المادینہ کے مقام پرھاون راکٹوں اور میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ دمشق کے مضافاتی علاقوں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری جاری ہے۔ کئی مقامات پر فریقین میں سخت لڑائی کی خبریں مل رہی ہیں۔