.

مصری، روسی وزرائے خارجہ کا دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال

امریکا سے کشیدگی کے بعد مصر، روس دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دورے پر آئے ہوئے روس کے اعلیٰ سطح کے وفد نے قاہرہ میں وزیرخارجہ نبیل فہمی اور وزیردفاع عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف سے بات چیت کے بعد مصری وزیرخارجہ نبیل فہمی نے قاہرہ میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ہم روس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں کیونکہ روس کی بین الاقوامی منظرنامے میں بڑی اہمیت ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''روس کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ وہ کسی کا بھی متبادل ہوسکتا ہے''۔ان کا اشارہ امریکا کی جانب تھا''۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ روسی وفد کے دورے سے ایک روز قبل روس کی جانب سے ایک اہم سیاسی پیغام دیا گیا تھا۔اس میں مصر اور اس کی تاریخ کی تعریف وتوصیف کا اظہار کیا گیا تھا۔

روسی وزیردفاع سرگئی شوئیگو اور وزیرخارجہ سرگئی لاروف مصر کے دو روزہ تاریخی دورے پر بدھ کو قاہرہ پہنچے تھے۔یہ دونوں روسی وزراء امریکا کی جانب سے مصر کو فوجی سازوسامان مہیا کرنے سے انکار اور 26 کروڑ ڈالرز کی امداد کی معطلی کے ایک ماہ کے بعد قاہرہ کا دورہ کررہے ہیں اور اس کو مصر اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قراردیا جارہا ہے۔

مصر نے امریکا کی جانب سے فوجی امداد کی معطلی پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اب زیادہ متوازن بین الاقوامی خارجہ پالیسی اختیار کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر امریکا سے فوجی امداد کی معطلی کے بعد روس سے چار ارب ڈالرز کا اسلحہ اور فوجی سازوسامان خریدنا چاہتا ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی ریانووستی نے اسلحہ برآمد کرنے والے سرکاری ادارے روسو بورنو ایکسپورٹ کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مصر کو نیا اسلحہ مہیا کرنے کا انحصار اس کی قوتِ خرید پر ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مصر کے تعلقات کی بہتری کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ اس کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں کوئی بگاڑ آجائے گا بلکہ اس کا امریکا پر انحصار جاری رہے گا۔

قاہرہ میں برطانوی یونیورسٹی اور جامعہ حلوان میں سیاسیات کے پروفیسر جہاد عودہ کا کہنا ہے کہ روس اور مصر کے درمیان ازسرنو راہ ورسم امریکا کی رضامند سے ہوئی ہے۔

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی تعلقات عالمی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اس لیے روس اور مصر کے درمیان تعلقات سے خطے میں امریکا کے مفادات کے لیے کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوگا''۔ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے دور کے برعکس آج کل روسی اور امریکی مفادات ایک دوسرے کی موجودگی میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔

یادرہے کہ مصر کے 1950ء کی دہائی سے 1979ء سے قبل تک سابق سوویت یونین (روس) کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے۔اسی سال مصر کے صدر انورالسادات نے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ کیا تھا جس کے بعد وہ امریکا کے زیادہ قریب ہوگئے تھے۔اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی بدولت مصر کو امریکا سے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی سالانہ امداد مل رہی ہے۔

لیکن مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد امریکا نے اس امداد کا کچھ حصہ روک لیا ہے جس کے بعد مصر نے بھی اپنا رُخ روس کی جانب کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے علاوہ یورپی ممالک نے مصر کی تاریخ کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے ہاتھوں برطرفی کے ردعمل میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن پر کڑی نکتہ چینی کی تھی اور مصری حکومت سے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک میں نافذ ہنگامی حالت ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اس پر مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت ناراض ہوگئی تھی اور اب اس کے امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں سرد مہری آچکی ہے۔