.

کویتی اخوان پر اہل تشیع کی جاسوسی کے لئے ڈرون استعمال کا الزام

حکومت نے مبینہ چھوٹے جاسوسی طیارے کو کھلونا قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کے ایک رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں موجود اخوان المسلمون اہل تشیع کی جاسوسی کے لیے بغیر پائلٹ کے چھوٹے ڈرون طیارے استعمال کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رکن پارلیمان فیصل دویسان نے الدعیہ کے علاقے حسینیہ بومحمد سے ایک ڈرون پکڑا ہے جس پر جدید مواصلاتی آلات اور کیمرے نصب تھے۔ یہ ڈرون مبینہ طور پر ملک میں موجود اخوانیوں کی جانب سے اہل تشیع کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔

فیصل الدویسان نے دعویٰ کیا کہ اخوان المسلمون نے مصر میں اپنے مخالفین کی جاسوسی کے لیے ڈرون طیارے استعمال کیے تھے۔ انہوں نے حکومت سے واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب کویتی وزارت داخلہ نے رکن پارلیمنٹ فیصل دیسان کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسینیہ بومحمد کے مقام سے ملنے والا "ڈرون" ایک کھلونا ہے۔ الدعیہ میں وائر لیس ڈرون کے شوقین ایک شخص نے اپنا ایک کھلونا جہاز گم ہونے کی شکایت کی ہے۔ فیصلے الدویسان کو ملنے ولا ڈرون جاسوس طیارہ نہیں بلکہ وہی کھلونا جہاز ہے۔

کویت میں مشکوک ڈرون کی اہل تشیع کے علاقے میں موجودگی پر "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار محمد الوشیحی نے کہا کہ "اگر دویسان کا دعویٰ درست ہے تو یہ ملک میں فرقہ واریت کے فروغ کی ایک سازش ہے لیکن میں اس ڈرون کی تصدیق نہیں کرتا۔ فیصل دویسان کو بھی پہلے مکمل تحقیق کر لینی چاہیے ورنہ ان کا الزام بجائے خود فرقہ واریت پھیلانے کا موجب بن سکتا ہے"۔

ایک سوال کے جواب میں الوشیحی کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون اگر حسینیہ کے علاقے میں اہل تشیع کی جاسوسی کرنا چاہے تواسے ڈرون کے استعمال کی ضرورت کیوں پڑے گی؟۔ اخوان جاسوسی کے لیے ڈرون کے قطعا محتاج نہیں ہیں۔ یہ کام کسی ٹیپ ریکارڈر اور معمولی کیمرے سے بھی کیا سکتا ہے۔