.

عراق:محرم کے جلوسوں پربم حملے،43 افراد ہلاک

یوم عاشور کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود دہشت گردی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں حکومت کی جانب سے یوم عاشور کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود دہشت گردی کے حملے جاری رہے ہیں۔ایک ماتمی جلوس میں خودکش بم دھماکے اور دوسرے واقعات میں 43 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع صوبے دیالا میں ایک خود کش بمبار نے اہل تشیع کے ماتمی جلوس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں بتیس افراد ہلاک اور اسّی زخمی ہوگئے۔

اس سے پہلے بغداد کے جنوب میں واقع قصبے حفریۃ میں پے درپے دو بم دھماکے ہوئے۔ان میں دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔شمالی شہر کرکوک میں دو بم دھماکوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عراق میں اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی بیرون ملک سے بھی اہل تشیع کی آمد کا سلسلہ جاری ہوجاتاہے ۔اس مرتبہ عاشوراء محرم کے دوران عراق اور دوسرے ممالک سے قریباً بیس لاکھ عقیدت مند حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں ماتمی جلوسوں میں شرکت کے لیے جنوبی شہر کربلا پہنچے ہیں۔

سیاہ کپڑوں میں ملبوس شیعہ زائرین حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مزار کی جانب ماتم کرتے ہوئے جا آرہے تھے۔اس دوران وہ جلوس کی شکل میں سینہ کوبی بھی کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ پچھتاوے کے احساس تلے سینہ کوبی کرتے اور سر پر دوہتڑ مارتے ہیں کہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے تحفظ میں ناکام رہے تھے۔ماتمی جلوسوں کے دوران شیعہ زنجیر زنی بھی کرتے ہیں اور وہ تلواروں سے بھی خود کو زخمی کرلیتے ہیں۔

صوبہ کربلا کے حکام کا کہنا ہے کہ عاشورے کے دوران بیس لاکھ زائرین کی آمد متوقع تھی ۔ان مِں سے دو لاکھ غیر ملکی زائرین ہیں۔اس وقت شہر کے تمام ہوٹل بُک ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں اہل تشیع کی آبادی پندرہ فی صد ہے لیکن وہ عراق ،ایران اور بحرین میں اکثریت ہیں۔ان ممالک کے علاوہ افغانستان ،لبنان ،اومان ،پاکستان ،سعودی عرب ،شام اور یمن میں بھی وہ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔تاہم وہ اقلیت میں ہیں۔

عراق میں سابق صدر صدام حسین نے اپنے دورحکومت میں اہل تشیع پر ماتمی جلوس نکالنے پر پابندی عاید کردی تھی لیکن اپریل 2003ء میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اہل تشیع نے ایک مرتبہ پھرماتمی جلوس نکالنا شروع کردیے تھے جس کے دوران وہ سینہ کوبی ،زنجیرزنی اور تلوار زنی بھی کرتے ہیں۔

ماضی میں ان جلوسوں پر عراق کے سنی مزاحمت کار یا القاعدہ سے وابستہ جنگجو حملے کرتے رہے ہیں اور عراقی حکومت ان کے حملوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہزاروں کی تعداد میں تعینات کرتی ہے۔اس مرتبہ صرف کربلا شہر میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے پولیس اور فوج کے پینتیس ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ فوج کے ہیلی کاپٹر فضا سے ماتمی جلوسوں کی نگرانی کررہے ہیں۔