.

یہودیوں کی آبادکاری:فلسطینی مذاکراتی ٹیم مستعفی

ٹیم کے مستعفی ہونے کے باوجود امن مذاکرات جاری رہیں گے:محمودعباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ثالثی میں اسرائیل سے امن بات چیت کرنے والی فلسطینی مذاکراتی ٹیم کوئی پیش رفت نہ ہونے اور صہیونی ریاست کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری جاری رکھنے کے خلاف احتجاج کے طور پر مستعفی ہوگئی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے مذاکراتی ٹیم کے مستعفی ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود امن مذاکرات جاری رہیں گے۔انھوں نے مصر کے ایک ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''ہم ان مذاکرات کاروں کو استعفے واپس لینے پر آمادہ کریں گے یا پھر ایک نیا وفد تشکیل دیں گے''۔

فلسطینی صدر کے انٹرویو سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ان کی ٹیم کب مستعفی ہوئی تھی۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ انھیں مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے ایک ہفتہ درکار ہوگا۔

فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت منجمد کردی گئی ہے لیکن انھوں نے بھی اپنے استعفے کے بارے میں رپورٹ کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ درحقیقت اسرائیل کی جانب سے گذشتہ ہفتے یہودی آبادکاروں کو فلسطینی علاقوں میں بسانے کے لیے ہزاروں نئے مکانوں کی تعمیر کےاعلانات کے بعد مذاکرات روک دیے گئے تھے۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکا کی ثالثی میں جولائی میں تین سال کے تعطل کے بعد امن مذاکرات بحال ہوئے تھے لیکن تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور اب صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر پر اصرار کی وجہ سے یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے نظر نہیں آتے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کو گذشتہ روز دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے بیس ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کے ٹینڈرز منسوخ نہ کیے تو وہ امن عمل کو ختم کردیں گے۔

اسرائیل نے حال ہی میں امریکا اور فلسطین کے انتباہ کے باوجود یہودی آبادکاروں کو عرب سرزمین پر بسانے کے لیے ''ریکارڈ'' بیس ہزار نئے مکانات کی تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے ٹینڈرز بھی جاری کردیے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے منگل کو مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے چوبیس ہزارنئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا اوریہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا حکم دیا تھا اور کہا کہ انھیں ان تعمیراتی منصوبوں کا پہلے سے علم نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں کے خلاف شدید عالمی ردعمل ہوسکتا ہے اور عالمی برادری کی توجہ چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری تنازعے پر ہونے والی ممکنہ ڈیل سے ہٹ سکتی ہے جبکہ اسرائیل ایران کے خلاف پابندیاں برقرار رکھنے اور اس کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔