.

ایرانی جوہری پروگرام، برا معاہدہ جنگ کا باعث بنے گا:اسرائیل

کیا اسرائِیلی وزیر اعظم کو چیخ پکار کا بھی حق نہیں؟: وزیر داخلہ گیلاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر داخلہ گیلاد ایردن نے ایرانی جوہری پروگرام کیخلاف جاری اسرائیلی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ'' عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ مجوزہ برا معاہدہ کر لیا تو اس کے نتیجے میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔'' وزیر داخلہ انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سکیورٹی سٹڈیز میں ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

ایک روز قبل ایران کی حامی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایک دوسرے انداز میں جنگ سے خبردار کیا تھا کہ'' اگر عالمی طاقتوں نے ایرن کے سات معاہدہ نہ کیا تو علاقے میں جنگ ہو سکتی ہے۔''

اسرائیلی وزیر داخلہ نے اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری پر تنقید کی اور کہا '' مجھے یہ سن حیرانی ہوئِی کہ جان کیری کہہ رہے ہیں کہ نیتن یاہو ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر کیوں تنقید کر رہے ہیں۔''

وزیر داخلہ گیلاد ایردن کے مطابق '' جب ہمیں ایک ایسے ملک کے ساتھ معاملہ درپیش ہے جو اسرائیل کو تباہ کرنے پر تلا بیٹھا ہے اور اسے یہ موقع بھی دیا جا رہا ہے تو بنجمن نیتن یاہو سے آپ کیا توقع کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال پر چیخ پکار بھی نہ کرے؟''

واضح رہے نیتن یاہو بار بار عالمی طاقتوں سے کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر معاہدہ ایک برا معاہدہ ہو گا ، وزیر داخلہ کے مطابق'' اس برے معاہدے پر جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔''

اس سے پہلے پیر کے روز جان کیری نے نیتن یاہو کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''امریکا اپنے اہم اتحادیوں کے مفادات اور جذبات کو سمجھتا ہے، لیکن میرے خیال میں وزیر اعظم نیتن یاہو کو سمجھنا چاہیے کہ ابھی کوئِی معاہدہ تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔''

دوسری جانب اسرائِیل سمجھتا ہے کہ چھ بڑی طاقتیں ایران کو جوہری رعائتوں کے بدلے میں اقتصادی رعائتیں دینے کو تیار ہیں۔ اس بارے میں جان کیری نے بھی کہا کہ امریکا ایران کو اقتصادی پابندیوں کے باوجود بہت محدود سا ریلیف ملے گا اور پابندیوں کا بڑا حصہ جاری رہے گا۔''

اسرائیل کی کوشش ہے کہ 20 نومبر سے شروع ہونے والے ایران کے ساتھ چھ بڑی طاقتوں کے مذاکرات کے تیسرے مرحلے سے پہلے اپنے تحفظات کو پوری طرح آشکار کر دے۔

علاقے میں غیر علانیہ اور اکلوتی جوہری طاقت اسرائیل نہیں چاہتا کہ ایران اس کیلیے کوئی خطرہ بنے اس سلسلے میں اسرائیل خود کو کسی عالمی معاہدے کا پابند بنانے کو بھی تیار نہیں ہے۔

اسرائیل اتوار کے روز فرانسیسی صدر کی آمد سے پہلے اسرائیل ایران کیخلف اپنی مہم کو اور تیز کرنا چاہتا ہے۔