.

ایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے: اسرائیل

ایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت سے دور ہے: عالمی جوہری ادارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت پیدا کر چکا ہے اس لیے اسے اپنا جوہری پروگرام مزید آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے جوہری توانائی سے متعلق عالمی ادارے آئی اے ای اے کے تین ماہ قبل دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا'' اس عالمی ادارے کے مطابق ایران نے اپنی جوہری سہولیات کو مزید بڑھاوا نہیں دیا ہے۔ اس لیے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یورینیم افزودہ کرنے والی صرف چارنئی مشینیں یورینیم افزودگی کر رہی تھیں۔

بنجمن نیتن یاہو نے آئی اے ای اے کے مذکورہ بالا بیان کے بارے میں کہا '' میں ایسی رپورٹس سے متاثر نہیں ہوتا ہوں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ایران اپنے پروگرام کی توسیع نہیں کر رہا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایران نے کافی اور ضروری کام کر لیا ہے اب اسے ضرورت ہی نہیں ہے۔''

دوسری جانب عالمی جوہری ادارے کا موقف ہے کہ ایران نے آئی آر ٹو ایم نام کی کوئی سنٹری فیوج مشین نصب نہیں کی ہے۔ جوہری ماہہرین کے مطابق ایسی مشین افزودہ کیے گئے یورینم سے تیزی جوہری ہتھیار تیار کر سکتی ہے۔

ایران آرک کے مقام پر ایران کا نصب شدہ آئی آر 40 ری ایکٹر بھی مغربی ممالک کی تشویش کیلیے کافی ہے۔ آئی آر 40 کے بارے کہا جاتا ہے کہ ایران نے یہ ری ایکٹر پلوٹونیم کی پراسیسنگ کیلیے حاصل کیا ہے۔ جو بنیادی طور پر یورینم کی افزودگی کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

عالمی جوہری ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک سفارتی ذمہ دارنے عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا جوہری بم بنانے کے لیے ایران کے لازمی عناصر اب بھی پورے نہیں ہیں۔ یہی وجہ کہ ایران کے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی یورینم کا ذخیرہ جو اعلی سطح کی افزودگی کے عمل سے گزر چکا ہے کو عارضی طور پر ماہ اگست سے روک دیا گیا ہے، اسلیے یہ ابھی تک اسرائیلی خطرے کی لکیروں سے نیچے ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں گرافکس کی مدد سے خطرے کی جو لکیر بتائی تھی ایران اس سے ابھی دور ہے۔ تہران بھی ان دعووں کی تردید کرتا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش میں ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایرانی موقف کو متعدد مرتبہ غلط قرار دے چکے ہیں اور امریکا و مغربی دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے سرگرم ہے کہ ایران قابل بھروسہ نہیں ہے۔