.

لبنانی صدر کے دورہ سعودی عرب کے مضمرات پر نئی بحث

ایوان صدر کے ذرائع نے دورہ مثبت قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی صدر العماد میشل سلیمان کے دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات کے بارے میں بیروت کے سیاسی، سماجی اور ابلاغی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ صدر میشل سلیمان کی سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کوغیرمعمولی اہمیت دی اور دونوں رہ نماؤں کی ملاقات کی خبر کو جلی سرخیوں میں شائع کیا، تاہم اخبارات کے ادارتی مضامین میں دورے کے مضمرات پرایک بحث بھی چل رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے صدر میشل سلیمان کے دورہ سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے شروع ہونے والی تازہ بحث پر ایک نظر ڈالی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر سلیمان نے سعودی عرب کا دورہ چھ ہفتے قبل کرنا تھا، لیکن وہ ایران، امریکا امن بات چیت اور خطے میں مرتب ہونے والے اس کے اثرات کے انتظارمیں رہے اور اپنا دورہ ریاض ملتوی کیے رکھا۔

مبصرین کے خیال میں لبنانی صدر کے دورے سے لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گوکہ صدر اپنے ساتھ دورے پر سابق وزیراعظم سعد حریری کو لے گئے تھے جو شاہ عبداللہ سے ملاقات کے وقت بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس سے یہ تاثرملا ہے کہ سعد حریری کو شاہ عبداللہ کی جانب سے جو ہدایت کی جائے گی وہ اس پرعمل درآمد کریں گے۔

شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے حامی "8 مارچ الائنس" کے مقرب اخبارات نے صدر مشیل سلیمان کے دورہ سعوی عرب کے نتائج کو مشکوک قرار دیا ہے تاہم سعد حریری کے حمایت یافتہ "14مارچ الائنس" نے اسے ایک مثبت سمت اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

دورہ: غیر مناسب وقت کی راگنی

حزب اللہ کے حامی اخبار"الاخبار" نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ "صدر مشیل سلیمان نے سعودی عرب کے دورے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا وہ غیرمناسب ہے کیونکہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سعودی عرب نے شام اور اس کے لبنانی حلیفوں کے خلاف غیرعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ہمیں اب شبہ ہو رہا ہے کہ شام کی شورش کے بارے میں صدر میشل سلیمان شاہ عبداللہ کی ہدایت کے مطابق کام کریں گے۔"

شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کرنے والے دیگراخبارات نے بھی صدر میشل سلمان کی شاہ عبداللہ سے ملاقات کو منفی اقدام قرار دیا ہے۔ بعض اخبارات کے اداریوں میں صدر سلیمان اور سعدی حریری دونوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے دورہ سعودی عرب سے ان کی سیاسی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ صدر سلیمان قومی جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے شام کے معاملے میں سعودی عرب سے کوئی سمجھوتہ کرنے ریاض گئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے لبنانی ایوان صدر کے ایک ذمہ دار ذرائع سے میڈیا میں آنے والے رد عمل پربات کی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ صدر میشل سلیمان کے دورہ سعودی عرب پرتنقید بلاجواز ہے۔ ان کا دورہ نہ صرف بروقت ہوا ہے بلکہ اس کے مثبت نتائج بھی جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شام علاقائی تنازعات میں کسی فریق کے لیے جانب داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ عالمی برادری اورعلاقائی طاقتوں سے مل کرتنازعات کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے۔

لبنانی ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا تھا کہ صدر میشل سلیمان کے دورہ سعودی عرب کے دوران شاہ عبداللہ نے یقین دلایا کہ ان کا ملک لبنان پہنچنے والے شامی پناہ گزینوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے بیروت کی خود بھی مدد کرے گا اور "دوستان لبنان" ممالک سے بھی پناہ گزینوں کی امداد میں اضافے کے لیے کہے گا۔