.

مرسی کی برطرفی نے اخوان کو زندگی کا بوسہ دے دیا:ابوالفتوح

مصر پر عبوری صدر عدلی منصور نہیں ،جنرل عبدالفتاح السیسی کی حکمرانی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار عبدالمنعم ابوالفتوح کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کی قیادت نے صدر محمد مرسی کو برطرف کرکے اخوان المسلمون کو ''زندگی کا بوسہ'' دے دیا ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہے۔وہ خود بھی اخوان المسلمون کے ساتھ سالہا سال وابستہ رہے تھے اورملک کی اس سب سے منظم جماعت کے سرکردہ لیڈر تھے۔اب انھوں نے مضبوط مصرپارٹی کے نام سے الگ سے اپنی جماعت قائم کر رکھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ کے ہاتھوں ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کو میڈیا کی گفتگوؤں میں اخوان المسلمون کے لیے ایک دھچکا قرار دیا گیا ہےکیونکہ سیاسی قوتیں تو اس جماعت کو بیلٹ باکس کے ذریعے شکست سے دوچار کرنا چاہتی تھیں۔

انھوں نے 30 جون کو برطرف صدر کے خلاف عوامی طاقت کے مظاہرے کوایک انقلابی لہر قرار دیا جو ان کے بہ قول 3 جولائی کو ایک فوجی بغاوت میں تبدیل ہوگئی۔انھوں نے کہا کہ مرسی کی جانب سے قبل از وقت صدارتی انتخابات کے انعقاد سے انکارکو فوجی طاقت کے ذریعے ان کی برطرفی کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔

ابوالفتوح نے واضح کیا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے مرسی کی ناکام پالیسیوں پر سب سے پہلے تنقید کی تھی اور قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا تھا لیکن وہ ملک میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔

اعتدال پسند اسلامی رہ نما نے کہا کہ ''ملک مسائل کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے اور ہمیں آزادی اورجمہوریت کے ذریعے سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے لیکن عبوری صدر عدلی منصور کی حکومت دہشت گردی کررہی ہے اور جس شخص کی مصر میں حکمرانی ہے،وہ عدلی منصور نہیں بلکہ جنرل عبدالفتاح السیسی ہیں''۔

انھوں نے سکیورٹی فورسز کی پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مصر میں فاشسٹ فوجی حکمرانی ہے جس نے اندھا دھند اور بلاامتیاز گرفتاریاں کر کے ملک میں دہشت کی فضا قائم کررکھی ہے۔انھوں نے کہا کہ مصر کی مسلح افواج کو ملک کی داخلی سیاست میں ملوث کیا جانا مرسی کے اقتدار میں رہنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

واضح رہے کہ مصر کے منتخب جمہوری صدر کو چار ماہ تک زیر حراست رکھنے کے بعد 4 نومبر کو دسمبر 2012ء میں صدارتی محل کے باہر مظاہرے کے دوران دو افراد کی ہلاکتوں کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ان پر تشدد کی شہ دینے کا الزام میں یہ مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ابوالفتوح نے ڈاکٹر مرسی پر مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''ان ہلاکتوں کے ذمے دارتو وزیردفاع جنرل عبدالفتاح السیسی ،وزیرداخلہ اور اس وقت کی حزب اختلاف قومی محاذ آزادی کے بعض لیڈر ہیں۔مرسی پر صرف سیاسی ذمے داری عاید ہوتی ہے''۔

ملک میں آیندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''اگر جنرل سیسی بطور صدارتی امیدوار میدان میں اُترے تو پھر کوئی بھی ان انتخابات میں حصہ نہیں لے گا اور حتیٰ کہ یہ انتخابات منعقد بھی نہیں ہوں گے''۔