.

پہلا بیان سامنے آنے پر مرسی قید تنہائی میں پہنچ گئے

قید تنہائی میں علاج کی خصوصی سہولیات میسر نہیں ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سکیورٹی حکام نے معزول صدر محمد مرسی کو ہسپتال سے جیل میں واپس بھجواتے ہوئے قید تنہائی میں رکھنے کیلیے ایک خصوصی سیل میں منتقل کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ مرسی خاندان کی ملاقات کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیا ۔ مرسی خاندان کی جانب سے یہ درخواست اس انکشاف پر سامنے آئی تھی کہ صدر مرسی کو حراست میں لیے جانے کے اگلے روز برطرف کیا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے محمد مرسی کو دس دن تک ہسپتال می زیر علاج رکھنے کے بعد قید تنہائی کیلیے برج العرب جیل منتقل کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے مصری حکام نے 62 سالہ معزول صدر مرسی کو4 نومبر کے بعد ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے بڑھ جانے کے باعث ہسپتال منتقل کیا تھا۔

سکیورٹی ذرائع نے اپنی شناخت سامنے نہ لانے کی شرط پر بتایا '' قید تنہائی میں معزول صدر کو خصوصی طبی سہولیات فراہم نہیں ہوں گی، تاہم انہیں قید تنہائی میں رکھنے کا اقدام غیر متوقع نہیں ہے۔''

ایک روز قبل معزول صدر مرسی کے بیٹے اسامہ اور وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکام نے مرسی کی اہلیہ کو جیل میں ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ ''کیونکہ مصری حکام میرے والد کا میڈیا میں ایک بیان سامنے آنے پر انہیں سزا دینا چاہتے ہیں۔''

واضح رہے معزول صدر کی برطرفی ک ےبعد یہ ان کا پہلا بیان میڈیا میں آیا تھا کہ انہیں برطرفی سے ایک روز پہلے ہی فوج نے گرفتار کر لیا تھا۔ اپنے وکیل کے ذریعے سامنے لائے گئے اس بیان میں فوجی حراست میں کئی ماہ گذارنے کا بھی ذکر کیا تھا۔