.

یورپی یونین: ایران کے خلاف پرانی پابندیاں بحال رکھنے کی تیاری

نئی پابندیاں لگائیں گے نہ پہلی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرینگے: سفارتی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے ایران پر دباو برقرار رکھنے اور ایرانی کمپنیوں کی قانونی کارروائیوں سے بچنے کیلیے ایران پر دوبارہ سے ان اقتصادی پابندیوں کے نفاذ پر غور شروع کر دیا ہے جنہیں اس سے پہلے عدالتیں ختم کر چکی ہیں۔

یورپی یونین یہ اقدام اس کے باوجود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتیں اگلے بدھ تک جوہری پروگرام کا امکان دیکھتی ہیں، تاہم یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران پر نئی پابندیاں نہیں لگائی جا رہی ہیں۔ کیونکہ نئی پابندیوں سے جوہری معاملے پر جاری مذاکرات اور امکانی معاہدے کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر اوباما بھی امریکی کانگریس کے ارکان پر زور دے چکے ہیں کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہو رہے ہیں ،اس لیے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عاید نہ کی جائِیں۔

یورپی یونین کے حکام کی طرف سے جمعرات کے روز سامنے آنے والی اس سوچ پر ابھی یورپی یونین میں شامل ملکوں کی حکومتوں کی منظوری لی جانا ہے۔

واضح رہے اسرائیل ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جاری مذاکرات پر سخت نالاں ہے اور اس کا اصرار ہے کہ ایران کے ساتھ نرمی کا برتاو کرنے کے بجائے اس پر دباو بڑھایا جائے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لاورینٹ فیبئیس نے بھی مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتامی مرحلے پر اسرائِیل کے مفادات کو نظرانداز نہ کر سکنے کا کہا تھا۔

ان مجوزہ ازسر نو لگنے والی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے جو ادارے زد میں آئیں گے ان میں پرشیا انٹر نیشنل بنک، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بنک اور بنک ریفان کاراگان شامل ہیں۔

یورپی یونین نے موقف اختیار کیا ہے کہ از سر نو عاید کی جانے والی پابندیوں کا مقصد ان قا نونی چیلنجوں سے نمٹنا ہے جو ایران سے تعلق رکھنے والے شہری اور ایرانی کمپنیاں عدالتوں کے ذریعے سامنے لاتی رہتی ہیں۔

یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ '' ہم صرف موجودہ پابندیوں کو قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں انہیں وسعت دینے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔''