.

شام: القاعدہ نے غلطی سے باغی کا سر قلم کر دیا

کٹے ہوئے سر والی تصویر کی شناخت پر اپنی غلطی تسلیم کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے منسلک شامی باغی گروپ نے اپنے ہی ایک ساتھی کا سر اس شبہے میں کاٹ دیا کہ وہ بشار الاسد رجیم کا عراقی ساتھی اور شیعہ جنگجو ہے۔یہ واقعہ حلب کے نزدیک فوجی ائیر بیس 80 کے قبضے کیلیے کئی روز پر پھیلی لڑائی کے دوران پیش آیا ہے۔

القاعدہ کے حامی گروپ اسلامی سٹیٹ آف عراق اینڈ لیوینٹ نے انٹرنیٹ پر ایک ایسی تصویر اپ لوڈ کی، جس میں ایک شخص کا سر کاٹا ہوا تھا اور اس کٹے ہوئَے سر کو حلب میں لوگوں کے ایک ہجوم کو دکھایا جا رہا تھا۔

اس تصویر کے حوالے سے القاعدہ کے وابستگان کا یہ دعوی چند ہی منٹ بعد اس وقت چیلنج ہو گیا جب اس مقتول کی شناخت احرارا الشام نامی ایک باغی گروپ سے وابستہ باغی کے طور پر ہو گئی۔

بعد ازاں آئی ایس آئی ایل نے اپنے دعوے کو واپس لیکر اپنی غلطی تسلیم کر لی کہ انہوں نے اییک عراقی شیعہ کے مغالطے میں اپنے ہی ایک باغی ساتھ کا سر قلم کر دیا ہے۔

واضح رہے مقتول بیس 80 پر قبضے کیلیے لڑائی میں زخمی ہو گیا تھا جسے زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا بعدا ازاں ہسپتال میں علاج کے دوران اس کی زبان سے ایسے دعائیہ کلمات سنے گئے جو عام طور پر شیعہ اپنی دعاوں میں استعمال کرتے ہیں۔

اسی چیز نے القاعدہ کے لوگوں کو مغالطے میں ڈال دیا کہ یہ شخص بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والا عراقی شیعہ ہے یہی بات اس کا سر قلم کرنے کی وجہ بن گئی۔