.

مصر:اخوان کی بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیش کش

تمام سیاسی گروپوں کی شمولیت سے جمہوری عمل شروع کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے منظم سیاسی دینی جماعت اخوان المسلمون کی قیادت میں قائم اسلامی اتحاد نے منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

اسلامی اتحاد نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں مذاکرات کی یہ پیش کش کی ہے مگر اس نے پہلی مرتبہ ڈاکٹر مرسی کی بحالی پر اصرار نہیں کیا بلکہ اس کے بجائے ایک پُرامن حزب اختلاف کو برقرار رکھنے پر زوردیا ہے۔اتحاد نے کہا ہے کہ وہ ملک کے مفاد میں اتفاق رائے چاہتا ہے۔

بیان کے مطابق:''اتحاد نے تمام انقلابی قوتوں ،سیاسی جماعتوں اور محب وطن شخصیات پر زوردیا ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے مذاکرات کے عمل میں شریک ہوں''۔

اسلامی اتحاد نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے یہ شرائط عاید کی ہیں کہ ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے اسلامی جماعتوں کے کارکنان کو رہا کیا جائے اور بند کیے جانے والے ٹی وی چینلوں کی نشریات بحال کی جائیں۔

اس نے ملک میں آئین کی حاکمیت کی بحالی اور جمہوری عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں تمام سیاسی گروپوں کو شرکت کی دعوت دی جائے۔اس عمل میں کسی ایک گروپ کی اجارہ داری ہونی چاہیے اور نہ کسی گروپ کو نکال باہر کیا جائے۔