.

''مالکی نے عراقی خود مختاری ایران کے سامنے ہار دی ہے''

عراق کے سابق عبوری وزیر اعظم العلاوی کا'' العربیہ'' سے انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق عبوری وزیر اعظم العلاوی نے وزیر اعظم نورالمالکی پر الزام عاید کیا ہے کہ نورالمالکی عراق کی خود مختاری کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور بطور وزیر اعظم انہوں نے یہ خود مختاری ایران اور اس کی عسکری ملیشیا کے سامنے ڈھیر کر دی ہے۔'' انہوں نے ان خیالات کا اظہار'' العربیہ '' سے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

العلاوی نے کہا '' عراقی اقتدار اعلی کی بھرپور طریقے سے خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور عراق کو اندرونی طور پر سنگین صورتحال کا سامنا ہے ۔'' ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا '' ان کے اس دعوے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ عراقی حکومت عسکریت پسندوں کو شام جانے سے نہ روک کر ایرانی منصوبوں کو ناکام بنانے میں ناکام ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران عراق کی فضائی حدود کو بہ آساںی استعمال کرتا ہے۔''

واضح رہے عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زبیری پہلے ہی کہہ چکے ہیں عراق ایران کی فضائی نقل و حرکت روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ہوشیار زبیری کے الفاظ تھے '' ہم عراقی فضا سے اسلحے کی ترسیل کی مذمت کرتے ہیں، اسے مسترد کرتے ہیں اور ہم اس بارے میں ایران کو آگاہ بھی کریں گے لیکن ہم اس سب کچھ کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔''

العلاوی نے کہا وہ فوجی کمزوریوں سے آگاہ ہیں کہ ایران کو روکنا مشکل ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نورالمالکی ایسی خوایش ہی نہیں رکھتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں سابق عبوری وزیر اعظم نے کہا'' عراق اقوام متحدہ سے رابطہ کر سکتا ہے، عرب لیگ میں مسئلہ اٹھا سکتا ہے، اسلامی ممالک کی تنظیم سے رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا کچھ بھی تو نہیں کیا گیا۔''

واضح رہے العلاوی کی جماعت نے 2010 کے عام انتخابات میں نورالمالکی کی جماعت سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن وہ وزیر اعظم نہ بن سکے، جبکہ مالکی نے ایک اتحاد بنا کر اپنے لیے وزارت عظمی پکی کر لی۔