.

مصر:اخوان کے سیاسی بازو پر پابندی سے متعلق عدالتی فیصلہ ملتوی

ججوں کے پینل کی حریت اورعدل پارٹی کو کالعدم قرار دینے کے لیے غیر پابند سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی اعلیٰ انتظامی عدالت نے اخوان المسلمون کے سیاسی بازو حریت اور عدل پارٹی کو کالعدم قراردینے سے متعلق دائر کردہ قانونی درخواستوں پر فیصلہ فروری2014 ء تک مؤخر کردیا ہے۔

انتظامی عدالت نے یہ فیصلہ ججوں کے ایک پینل کی جانب سے غیرپابند سفارشات موصول ہونے کے بعد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایف جے پی پر پابندی عاید کردی جائے۔اس جماعت کے خلاف ایک قانونی درخواست عدالتی گروپ ''انڈی پینڈینٹس کرنٹ'' کے سربراہ احمد الفضالی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

اس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایف جے پی اپنی مذہبی اساس کی بنا پر غیر قانونی ہے۔یہ موقف مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے جولائی میں جاری کردہ آئینی اعلامیے کی روشنی میں اختیار کیا گیا تھا۔اس میں مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی جماعتوں پر پابندی لگانے کا کہا گیا تھا۔

عبوری آئینی اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جنس ،نسل اور مذہب کی بنیاد پر امتیازات روا رکھنے والی کسی جماعت کے قیام کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

23ستمبر کو مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی اور اس کے تمام اثاثے اور فنڈز منجمد کردیے تھے۔عدالت نے اخوان المسلمون سے وابستہ اداروں کو بھی کالعدم قراردے دیا تھا۔اخوان نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی لیکن اسی ماہ اس کی یہ اپیل مسترد کردی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مصر کی سب سے منظم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے وابستگان نے 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی انقلاب کے بعد حریت اور عدل پارٹی قائم کی تھی۔ڈاکٹر محمد مرسی اس کے پہلے سربراہ تھے لیکن انھوں نے جون 2012ء میں صدر منتخب ہونے سے چندے قبل جماعت کی سربراہی چھوڑ دی تھی۔

3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر کی برطرفی کے بعد سے اس جماعت کو حکومت اور سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔اب تک حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اخوان کے دوہزار سے زیادہ کارکنان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان جماعت کی صف اول کی تمام قیادت شامل ہے۔ چھے سو سے زیادہ کارکنان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے ہیں لیکن اخوان ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ بتاتی ہے۔