.

تنقید اور خیر مقدم کے سائے میں فرانسیسی صدر کی اسرائیل آمد

صدر اولاند بیت المقدس اور مغربی کنارے کا بھی دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند آج اتوار کو فلسطین اور اسرائیل کے تین روزہ دورے پر تل ابیب پہنچ رہے ہیں۔ فلسطینیوں کی جانب سے فرانسیسی صدر کی آمد پر کوئی خاص گہما گہمی نہیں دکھائی گئی تاہم اسرائیل بے تابی سے انتظار میں ہے۔

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے فرانسو اولاند کی بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آمدکے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے یہودی آبادکاری کی حوصلہ افزائی قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ فرانس، اسرائیل کا نہایت قابل اعتماد دوست ملک ہے اور وہ صدر اولاند کی آمد کا بے تابی سےانتظار کر رہے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزارت خارجہ اور صدر شمعون پیریز نے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سے سخت شرائط کی حمایت کرنے پر پیرس کا شکریہ ادا کیا تھا۔

صدر پیریز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے فرانسیسی ہم منصب کی آمد کے منتظر ہیں۔ وہ پیرس حکومت کی جانب سے ایران کے جوہری پرگرام کے حوالے سے سخت موقف اپنانے کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ فرانس نے ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے گروپ چھ کے مذاکرات میں اسرائیلی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق صدراولاند اپنے تین روزہ دورے میں فلسطینی اتھارٹی کی قیادت سے بھی ملیں گے۔ ان کے دورے کے شیڈول میں مقبوضہ بیت المقدس اورمغربی کنارے کا دورہ بھی شامل ہے۔ اپنے اس دورے میں وہ تین ماہ سے جاری فلسطین۔ اسرائیل امن مذاکرات کی مزید حوصلہ افزائی کریں گے۔

صدر اولاند دونوں فریقین سے ملاقات میں مسئلے کے دو ریاستی حل پر زور دیں گے، تاہم اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں عالمی برادری سے سیکیورٹی ضمانتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آسکتا ہے۔

درایں اثناء اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے فرانسیسی صدر کی جانب سے متنازعہ علاقوں مغربی کنارے اور بیت المقدس کا دورہ کرنے کے اعلان کی مذمت کی ہے۔ حماس کے ترجمان اور جماعت کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر صلاح الدین بردویل کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدرکا دورہ بیت المقدس اورمغربی کنارا فلسطین میں یہودی آباد کاری کی حوصلہ افزائی اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی میں اضافے کا موجب بنے گا۔

حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری بالخصوص مغرب فلسطینیوں کے حوالے سے منافقت کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرنے میں مغربی طاقتوں کا دہرا معیار ثابت ہو چکا ہے۔