.

اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہر صورت جاری رہیں گے: محمود عباس

یاسر عرفات کی زہر سے ہلاکت کی تحقیقات کرائی جائیں: انٹرویو میں مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق اسرائیل کے ساتھ پورے 9 ماہ تک مذاکرات جاری رہیں گے۔ ان مذاکرات کے دوران یہ پرواہ نہیں کی جائے گی کہ زمین پر کیا واقعات ہو رہے ہیں۔

محمود عباس نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب ان کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کے مذاکرات سے الگ ہونے کی خبریں آچکی ہیں، کہ وہ اسرائیلی یہودی بستیوں کے جاری منصوبوں کی موجودگی میں مذاکرات کا حصہ رہنا درست نہیں سمجھتے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے اس موقع پر مرحوم فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کو زہر دے کر ہلاک کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات کیلیے بین الاقوامی سطح پر ایک انکوائری کرانے پر بھی زور دیا ہے، تاکہ موت کے ذمہ داروں کا پتہ چلایا جا سکے۔

فرانسیسی صدر کی اسرائیل آمد کے موقع پر محمود عباس نے امن مذاکرات کا حصہ رہنے کا عندیہ دیا اور کہا '' ہم نو ماہ کے مذاکرات کے ساتھ متفق ہو چکے ہیں اس لیے یہ مذاکرات اس کے باوجود جاری رہیں گے کہ اسرائیل کے نئی یہودی بستیاں بنانے کے حوالے سے زمین پر کچھ بھی ہوتا رہے۔''

انہوں نے مزید کہا '' ہماری مذاکرات کے لیے کمٹمنٹ ایک مناسب تصفیے کی خاطر ہے، ہماری مذاکراتی ٹیم کی قیادت صائب عریکات کر رہے ہیں۔''

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا '' فلسطینی مذاکرات کار ٹیم کے پیش کردہ استعفے ابھی منظور نہیں کیے گئے ، فلسطینی حکام ان استعفوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور پیر کے روز ان کے بارے میں غور کیا جائے گا۔''

صدر محمود عباس نے مرحوم یاسر عرفات کو زہر دیے جانے کے انکشاف کے حوالے سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر اس سلسلے میں باضابطہ تحقیقات کرائی جائیں۔

ان کا کہنا تھا '' ہمیں اس امر اشارے ملے ہیں کہ یاسر عرفات بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ زہر دیے جانے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے تھے، اس لیے اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیں کہ زہر کس نے بھیجا اور انہیں کس نے زہر دیا۔''

ایک سوال کے جواب میں محمود عباس نے کہا اس سے پہلے لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کی بھی عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا ، ہم بھی اسی انداز سے یہ مطالبہ کر کے تحقیقات چاہتے ہیں۔''

واضح رہے یاسر عرفات کا 2004 میں 75 سال کی عمر میں پیرس کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوا تھا ۔ اب کئی برس بعد انہیں زہر دے کر ہلاک کیے جانے کے باضابطہ انکشاف کے بعد اتفاق ہے کہ فرانس کے صدر خصوصی طور پر اسرائیل پہنچے ہیں۔ جہاں امکانی طور پر اس حساس معاملے پر بھی بات ہوئی ہو گی۔ محمود عباس بھی اس موقع پر یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔