.

القاعدہ سے تعلق کا الزام، سائنسدان اسرائیلی قید میں

مقدمہ چلے بغیر تین سال اسرائیلی قید میں گذر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے سکیورٹی سے متعلق اداروں نے القاعدہ سے منسلک مبینہ مشکوک القاعدہ سائنسدان کو تین سال سے خفیہ طور پر قید کیے رکھا ہوا ہے۔ تین سال کے دوران کوئِی مقدممہ چلایا گیا ہے نہ اس کی گرفتاری کو منظر عام پر لایا گیا۔

سمیر البراق نامی اس زیر حراست مبینہ القاعدہ سائنسدان کو مائیکرو با ئیلاجیکل ہتھیار بنانے کا ماہر بتایا گیا ہے۔ یہ انکشافات اسرائیلی عدالت کی دستاویزات کے ذریعے پیر کے روز سامنے آئے ہیں۔

اسرائیلی دستاوزات کے مطابق سمیر البراق پاکستان سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد عسکری تربیت کیلیے افغانستان پر چلا گیا تھا جہاں اسے القاعدہ میں بھرتی کر لیا گیا۔ اسرائیلی پراسیکیوٹرز نے سمیر البراق پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

لیکن دلچسپ بات ہے کہ 39 سالہ سمیر البراق کو 2010 میں گرفتار کرنے کے باوجود اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل ایک پالیسی کے مطابق زیر حراست لیے گئے مشتبہ عسکریت پسندوں پر مقدمہ چلائے بغیر انہیں طویل عرصے تک جیلوں میں رکھتا ہے۔

سمیر البراق نے ماہ اکتوبر کے دوران اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنی حراست کو چیلنج کیا تھا۔

اس بارے میں سمیر البراق کے وکیل محمد صالح کا کہنا تھا '' میرا موکل اگر واقعی اتنا خطرناک ہے، جتنا اسرائیلی حکومت کا دعوی ہے تو تو اس کے خلاف تین سال گذرنے کے باوجود مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی عدالتی کارروائی جاری تھی اور اس بارے میں مزید اطلاعات کا انتظار ہے۔