.

بغداد پھر لہو لہو، 34 ہلاک 70 زخمی

زیادہ تر ہلاکتیں بم دھماکوں سے ہوئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں پے درپے ہونے والے دھماکوں نے 22 افراد کی جان لے لی ہے۔ دھماکوں کا ہدف شہر کی مارکیٹیں اور کیفے تھے۔ دارالحکومت کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی اسی نوعیت کے دھماکے کیے گئے ہیں۔ ان واقعات میں 12 عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عراق میں بم دھماکوں کی کارروائیاں شدومد سے جاری ہیں۔ جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 34 افراد کے مارے جانے اور 70 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان دھماکوں میں سنی اور شیعہ دونوں کے علاقوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔

اتوار کی شام 6 بجے سے شروع ہونے والے ان دھماکوں میں چار کار بم دھماکے اور تین سڑک کنارے ہونے والے عام بم دھماکے تھے۔

ایک کار بم دھماکہ بغداد کے وسط میں نیشنل تھیٹر کے قریب ہوا۔ جبکہ بم دھماکوں سے بغداد کے جنوب میں ایک مارکیٹ اور شہر کے شمال میں ایک کیفے کوبھی ہدف بنایا گیا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق مجموعی طور پر بغداد شہر میں 17 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے۔ محمکہ صحت کے حکام نے بھی اسی کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے گزشتہ ایک ماہ کے دوران عراق میں بم دھماکوں کے واقعات شام کے اوقات میں زیادہ ہو رہے ہیں۔ ان اوقات میں عراقی عوام کے اجتماعی مراکز ریستوران، کیفے، اور تقریبات وغیرہ نشانہ بنائی جاتی ہیں۔

اس سے پہلے عام طور پر دھماکے صبح کے اوقات میں ہوتے تھے، تاکہ صبح سویرے رش کے اوقات میں عوام کو نشانہ بنایا جا سکے۔

اتوار کے روز دن کے وقت بغداد اور اس کے شمال میں 5 افراد کی ہلاکت شام والے دھماکوں کے علاوہ تھی۔ اس سلسلے میں سکیورٹی حکام کے مطابق 12 عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں۔ ان میں تین عسکریت پسند عراق کے شمالی شہر توز خرماتو میں مارے گئے، اس شہر میں دو عام لوگوں کے بھی ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔