.

مصر: سکیورٹی آفیسر ہلاک، مقتول دہشتگردی کیخلاف سرگرم تھا

سکیورٹی اہکاروں کے قافلوں پر حملے بڑھ گئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے قائم ونگ کے سکیورٹی آفیسر کو نامعلوم مسلح افراد نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ اس واقعے کا مصری وزارت داخلہ نے باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف فرائض انجام دینے والا یہ افسر مصر کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے وابستہ تھا۔ مقتول افسر اپنی گاڑی پر اپنے دفتر کی طرف جا رہا تھا کہ مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقتول سکیورٹی آفیسر کا نام محمد مبارک تھا جو اسلام پسند عسکریت کا قلع قمع کرنے پر مامور تھا۔

مصر میں سکیورٹی قافلوں پر ان دنوں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان حملوں کا بطور خاص مرکز جزیرہ نما سینائی ہے۔ جہاں مرسی حکومت کے خاتمے کے بعد چیلنج بڑھ گیا ہے۔

اس سلسے میں بڑاواقعہ پچھلے ماہ اکتوبر میں پیش آیا تھا۔ جس میں منصورہ یونیورسٹی کے باہر تعینات تین پولیس اہکار ہلاک ہو گئے تھے۔

القاعدہ کے حامی گروپ نے قاہرہ میں کیے گئے متعدد واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکے ہے۔۔ ان قبول کیے جانے والے واقعات میں وزیر داخلہ کے قافلے پر کیا گیا حملہ بھی شامل تھا۔