.

ڈاکٹر مرسی کی جیل میں قیدیوں کے لباس میں مسکراہٹ

برطرف صدر کی برج العرب جیل میں آمد پر تصاویر منظرعام پر آ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جیل میں قیدیوں کا لباس پہنے اور مسکراتے ہوئے تصاویر منظرعام پر آگئی ہیں۔

ڈاکٹر مرسی کو 4 نومبر کو پولیس اکیڈیمی قاہرہ میں قائم کی گئی خصوصی عدالت میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں پیشی کے بعد ملک کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں واقع جیل برج العرب منتقل کردیا گیا تھا۔انھوں نے جیل آمد پر قیدیوں والا لباس پہننے سے انکار کردیا تھا اور ناسازیٔ طبع کی بنا پر پہلی رات جیل کے اسپتال میں گزاری تھی۔

اب ان کی جیل کے اندر کی بعض تصاویر ایک مصری روزنامے کے ذریعے منظرعام پر آئی ہیں۔اس میں انھوں نے قیدیوں والا سفید لباس زیب تن کررکھا ہے۔روزنامہ المصری الیوم کی انگریزی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصاویر جیل حکام کی اجازت سے مروجہ طریق کارکے مطابق بنائی گئی تھیں۔دوسرے قیدیوں کی طرح برطرف صدر کی جیل آمد کے موقع پر ان کی یہ تصاویر اتاری گئی تھیں اور ان کو ان کے پولیس ریکارڈ کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔

معزول صدر محمد مرسی نے قاہرہ کے نواح میں واقع پولیس اکیڈیمی میں پیشی کے موقع پر قیدیوں کے لباس کے بجائے سوٹ زیب تن کررکھا تھا۔عدالتی کمرے میں پہنچنے کے بعد ہاتھ سے رابعہ کا نشان بنایا جو اب اخوان المسلمون کی منتخب جمہوری صدر کی بحالی کے لیے جاری تحریک کی ایک علامت بن چکا ہے۔

انھوں نے آغاز ہی میں عدالت کے جج سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ''وہ ملک کے آئینی اور قانونی صدر ہیں۔اس لیے ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا اور سبکی کا سبب بننے والے اس ٹرائل کو ختم کیا جائے''۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔

ڈاکٹر مرسی نے مدعاعلیہان کے لیے مخصوص لباس بھی پہننے سے انکار کردیا جس کے بعد عدالت نے شوروغوغا کے ماحول میں ان کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔

معزول صدر اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے چودہ مدعاعلیہان کے خلاف دسمبر 2012ء میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں اور تشدد کی شہ دینے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اگر عدالت نے انھیں قصوروار قرار دے دیا تو انھیں عمرقید یا پھر سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔