.

اردن کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست کے لیے درخواست

سعودی عرب کے اصرار پر مشرق وسطیٰ کا چھوٹا ملک نشست سنبھالنے پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے باضابطہ درخواست دے دی ہے۔سعودی عرب نے گذشتہ ماہ انتخاب میں یہ نشست جیتی تھی لیکن اپنے بعض تحفظات کے پیش نظر اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اردن کے وزیراطلاعات محمد مومنائی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ان کا ملک اس نشست میں دلچسپی رکھتا ہےاور اسے اپنی سیاسی اور سفارتی ذمے داریوں کا احساس ہے،توقع ہے کہ وہ اپنی متوازن اور عقلی پالیسیوں کی بدولت سلامتی کونسل کی نشست کے حصول کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کو سلامتی کونسل کی دو سال کے لیے غیرمستقل نشست نہ سنبھالنے کے فیصلے سے تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا۔

اسی ماہ کے آغاز میں سفارت کاروں نے بتایا تھا کہ اردن سلامتی کونسل کی نشست سنبھالنے کے معاملے پر متردد تھا لیکن سعودی عرب نے ہی اسے فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی نے اس ضمن میں سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط لکھا تھا اور اس کے ساتھ سعودی وزارت خارجہ کا گذشتہ ماہ جاری کردہ ایک بیان بھی تھا جس میں شام میں گذشتہ بتیس ماہ سے جاری خانہ جنگی رکوانے میں ناکامی پر سلامتی کونسل کی مذمت کی گئی تھی۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ''سلامتی کونسل نے اپنے کام کے لیے جو طریق کار،میکانزم اور دُہرے معیارات اپنا رکھے ہیں ،ان کی وجہ سے وہ عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے''۔

سعودی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل پر الزام عاید کیا کہ وہ شام کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شامی صدر بشارالاسد نے سزا کے کسی خوف سے بے نیاز ہوکر اپنے ہی عوام کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سلامتی کونسل فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان عشروں پرانے تنازعے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس کے علاوہ وہ مشرق وسطیٰ کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے میں بھی ناکام رہی ہے۔

سعودی عرب کو پہلی مرتبہ دوسال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا گیا تھا لیکن اس نے عالمی ادارے میں اصلاحات متعارف کرانے تک اس کی نشست سنبھالنے سے انکار کردیا ہے۔

سعودی عرب کے علاوہ چاڈ ،چلّی ،لیتھوینیا اور نائیجیریا کو پندرہ ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا گیا تھا۔ان میں سے چارممالک یکم جنوری 2014ء کو آذربائیجان ،پاکستان ،گوئٹے مالا ،مراکش اور ٹوگو کی جگہ سلامتی کونسل کی دوسال کے لیے نشستیں سنبھالیں گے اور اب سعودی عرب کی جگہ ممکنہ طور پر اردن کا انتخاب کیا جائے گا۔