.

شامی فوج کی لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے پر بمباری

قارہ سے ایک ہزار شامی خاندانوں کی لبنان کی جانب نقل مکانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فضائیہ نے لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے قارہ میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جبکہ صدر بشارالاسد کی وفادار بری فوج اس قصبے پر قبضے کے لیے زمینی کارروائی کررہی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے میڈیا کو بتایا کہ ''قارہ پر اتوار کی صبح سے فضائی حملے جاری ہیں۔جنگی طیاروں نے گذشتہ روز بھی اس قصبے پر بمباری کی تھی''۔

درایں اثناء شامی کارکنان نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دارالحکومت دمشق سے پچاس کلومیٹر شمال میں ہائی وے پر واقع اس قصبے میں توپخانے سے ہونے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے۔شامی فوج نے اس قصبے کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے جس کے بعد وہاں سے قریباً ایک ہزار خاندان سرحد عبور کرکے لبنانی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔

لیکن اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی ترجمان ڈانا سلیمان کا کہنا ہے کہ اتوار کو کسی خاندان نے سرحد عبور نہیں کی اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شامی فوج نے قارہ کے ارد گرد واقع چیک پوائنٹس بند کردیے ہیں۔

اس قصبے پر قبضے کے لیے لڑائی میں شامی فوج کو لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ان کے مدمقابل باغیوں کو القاعدہ سے وابستہ جہادیوں کی مدد حاصل ہے۔قارہ کو شامی باغی لبنان سے شام میں داخل ہونے کے لیے ایک گذرگاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

اسی قصبے میں شامی فوج کا اسلحے کا ایک بڑا ڈپو بھی موجود ہے اور گذشتہ ہفتوں کے دوران اسدی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں اس قصبے کے کئی حصے تباہ ہوچکے ہیں۔اس کے نواح میں قلمون کا پہاڑی علاقہ واقع ہے اوراس پر قبضے کے لیے بھی شامی فوج گذشتہ کئی ہفتوں سے باغیوں سے نبرد آزما ہے۔