.

لبنان میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ، کلچرل اتاشی سمیت 23 ہلاک

علاقہ حزب اللہ ملیشیا کے زیر اثر ہے، لبنانی سکیورٹی فورسز نے محاصرہ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارت خانے میں دو خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں تئیس فراد ہلاک اور کم سے کم ڈیڑھ سو زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تعداد عام لوگوں کی ہے۔

''العربیہ'' کے نمائندہ نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کی صبح ایرانی سفارت خانے کے قریب سے اچانک زور دار دھماکوں کی آواز سنی گئی۔ تاہم کچھ دیر میں واضح ہو گیا کہ دو خوفناک بم دھماکے ہوئے ہیں۔

''العربیہ'' کے نمائندے عدنان غالموش کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سفارت خانے سے متصل چھے عمارتوں کے ساتھ ساتھ متعدد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکوں کے فوری بعد سکیورٹی فورسزکی بڑی تعداد نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

اب تک ملنے والی تفصیل کے مطابق ایرانی سفارتخانے کے اہل کاروں بشمول ایرانی کلچرل اتاشی کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ آس پاس کی عمارات اور بعض گاڑیوں میں سوار افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ درجنوں زخمیوں میں سے کتنے افراد کی حالت نازک ہے۔

ایرانی سفارت خانے کی طرف آنے جانے والے راستوں کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے، ایک سکیورٹی سے متعلق ذمہ دار کا اس بارے میں کہنا ہے''اس امر کی تردید کی کہ دھماکوں کی وجہ راکٹوں کا فائر کیا جانا بنا ہے البتہ دو دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے دھماکا بیروت کے اس حصے میں ہوا ہے جسے لبنانی شیعہ مکتب فکر کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس علاقے میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیر اثر مانا جاتا ہے۔

بیروت میں گزشتہ کئی مہینوں کے بعد تشدد کا یہ بڑا واقعہ ہے۔ چند روز پہلے بشارالاسد کے حامی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے بیروت میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کا جوہری معاہدہ ممکن نہ ہوا تو جنگ کا خطرہ ہے۔