.

ترکی: نئے دستور کیلیے کام کرنے والا پارلیمانی کمیشن ناکام

وزیر اعظم کا اہم انتخابی وعدہ تھا، پارلیمانی کمیشن ڈیڈ لاک کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں نئے دستور کی تیاری پر مامور پارلیمانی کمیشن اپنے ہدف کے حصول میں ناکام ہو گیا ہے۔ اس ناکامی کے باعث پارلیمانی کمیشن کو جلد ختم کر دیا جائے گا۔

ترکی کی حکمران جماعت کے ایک سینئیر رہنما نے پارلمانی کمیشن کی ناکامی کا اعلان کر دیا ہے۔ پارلیمانی کمیشن کی ناکامی کے باعث وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن اپنا ایک اہم انتخابی وعدہ پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔

واضح رہے ایک وسیع البنیاد پارلیمانی گروپ کچھ عرصے سے موجودہ دستور کو تبدیل کرنے کیلیے کام کر رہا ہے۔ لیکن اس طویل عرصے میں یہ پارلیمانی گروپ اب تک صرف ساٹھ دستوری آرٹیکلز پر باہم متفق ہو سکا ہے، جبکہ دستور کی تبدیلی کیلیے یہ ساٹھ آرٹیکلز دستور کے نصف آرٹیکلز سے بھی کم ہیں۔

حکمران جماعت کے سینئیر رہنما محمد علی شاہین کا کہنا ہے کہ '' سپیکر اس سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے کہ نئے دستور کی تیاری میں کیا مشکلات رہیں۔ وہ اس بارے میں چاروں جماعتوں کے قائدین کو بھی آگاہ کریں گے۔

نیا دستور طیب ایردوآن کا وعدہ تھا، اس مقصد کے لیے چار اہم پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا گیا تھا۔دستور میں ترک شہری کی تعریف اور مذہبی آزادیوں جیسے ایشوز کو طے کیا جانا تھا۔ لیکن اس گروپ کی ورکنگ ڈیڈلاک کا شکار ہو گئی ہے۔