.

عبداللہ عزام بریگیڈز نے بیروت بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی

حزب اللہ کے جنگجوؤں کے شام سے انخلاء تک حملے جاری رکھنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے وابستہ عبداللہ عزام بریگیڈز نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر دو خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

عبداللہ عزام بریگیڈز کے ایک رہ نما صالح عبدالله القرعاوی نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی مختصر تحریروں میں خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ جب تک حزب اللہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام سے واپس نہیں بلا لیا جاتا،اس وقت تک یہ حملے جاری رہیں گے۔

ایران کے سابق صدرابوالحسن بنی صدر نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے میں تباہ کن بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا تعلق شام میں جاری خانہ جنگی سے ہے۔

انھوں نے منگل کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ'' شام میں جو کچھ ہورہا ہے ،یہ ایک عالمی جنگ ہے،اس میں تمام علاقائی قوتیں ملوث ہیں۔ایران ،لبنان اور ترکی بری طرح اس جنگ میں شریک ہیں''۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کے بم دھماکے کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں اور شامی اور لبنانی عوام اس عالمی جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔

درایں اثناء ایران کی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر بیروت میں دُہرے بم دھماکے کرانے کا الزام عاید کیا ہے۔وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخام نے ایک بیان میں کہا کہ ''بم دھماکے ایک غیر انسانی جرم ہیں اور یہ صہیونیوں اور ان کے آلہ کاروں کی مذموم کارروائی ہیں''۔

شام نے بھی بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے باہران بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔دو منٹ کے وقفے سے ہونے والے ان بم دھماکوں میں ایران کے کلچرل اتاشی سمیت تیئس افراد ہلاک اور کم سے کم ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنان کے سابق وزیردفاع البرٹ منصور نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملوں کی سازش میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس بم حملے سے لبنان میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ان کے بہ قول دہشت گردی کے اس واقعے میں بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے بھِی بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے باہر دہشت گردی کے اس واقعے کو شام میں جاری خانہ جنگی سے جوڑا ہے۔بروکنگزدوحہ مرکز کے ایک تجزیہ کار ابراہیم شرقیہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس طرح کے بم دھماکے متوقع تھے۔مجھے یقین ہے کہ ان کا شام میں جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس سے تعلق ہے کیونکہ ایران کو شامی تنازعے کا ایک بڑا کردار سمجھا جارہا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ان بم دھماکوں نے شامی تنازعےکے حوالے سے ایک سنجیدہ پیغام دے دیا ہے''۔بیروت کے جس علاقے میں ایرانی سفارت خانہ واقع ہے،یہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا مضبوط گڑھ ہے۔ابراہیم شرقیہ کا کہنا تھا کہ بیروت میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے اور ایک یا دوافراد بآسانی اس طرح کے بم دھماکے کرسکتے ہیں۔