.

عدلی منصور صدارتی الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے

جنرل عبدالفتاح السیسی کیلیے راہ ہموار ہو سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخاب کیلیے امیدوار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں اس امر کا اعلان ایسے موقع پر کیا ہے جب فوج کے سربراہ جنرل سیسی کے صدارتی انتخاب لڑنے کیخلاف مرسی مخالفین بھی آواز اٹھانے لگے ہیں۔

عدلی منصور نے تین جولائی کو مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے اگلے ہی روز فوج کی حمایت سے عبوری طور پر صدارتی منصب پر فائز ہوئے تھے۔اس سے پہلے صدر مرسی نے انہیں آئینی عدالت کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

مصر کے عبوری صدر نے اپنے انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا '' نہیں ، نہیں، میں صدارتی انتخاب نہیں لڑوں گا بلکہ اپنے اصل کام کی طرف لوٹ جاوں گا اور آئینی عدالت میں اپنی ذمہ داری نبھاوں گا۔''

عبوری حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے روڈ میپ کے مطابق عدلی منصور نئے صدر کے انتخاب تک عبوری حکومت کے سربراہ رہیں گے۔ واضح رہے صدارتی انتخابات 2014 کے پہلے وسط میں متوقع ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ نام فوج کے سربراہ کا لیا جا رہا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم ابھی انہوں نے براہ راست ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

البتہ پچھلے چند ماہ کے دوران جنرل سیسی کے صدر بننے کے حق میں اور مخالفت میں مختلف عدلی منصور کا یہ اعلان جنرل سیسی کی صدارت کیلے راہ ہموار کر نے کا باعث بن سکے گا یا نہیں۔آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔

ایک سابق صدارتی امیدوا راعلان کر چکے ہیں کہ جنرل سیسی نے صدر بننا چاہا تووہ ان کی حمایت کریں گے۔ ان کے مقابلے میں صدر مرسی کے مخالف سیاسی رہنما عبدالمنعم ابوالفتاح نے جنرل سیسی کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ عدلی منصور کا یہ اعلان جنرل سیسی کی صدارت کیلیے راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بن سکے گا؟