.

قاہرہ: فوج کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی یاد

2011میں 43 مظاہرین کو ہلاک کیا گیا،آج دو سال ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں آج عوام کی بڑی تعداد فوج مخالف مظاہروں کی یاد منائے گی۔ فوج کیخلاف مظاہروں کی یاد دو سال پرانے ان واقعات کے حوالے سے منائی جا رہی ہے جنہیں نومبر 2011 مظاہروں کے دوران سکیورٹی اداروں کے جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

آج بھی مصری عوام ماہ نومبر کو ہلاکتوں والے نومبر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ کہ دو سال پہلے قاہرہ میں بھاری تعداد میں سکیورٹی فورسز نے انہیں گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔

فورسز کے ہاتھوں مبینہ طور پر کم از کم 43 مصری عوام ہلاک اور 3000 زخمی ہو گئے تھے۔ ان واقعات کے نو ماہ بعد حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔

واضح رہے رواں سال ماہ اگست کے دوران بھی عبوری حکومت اور مصری فوج کیخلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری طور پر تسلیم کردہ اعداد شمار کے مطابق سینکڑوں مظاہرین مارے گئے تھے۔ جبکہ اخوان المسلموں کا کہنا ہے کہ اس کے مارے جانے والے کارکنوں کی تعدا ہزاروں میں ہے۔

مرسی دور میں اسی نوعیت کے مظاہروں میں بھی تین افراد ہلاک ہو گئے تھے، تاہم رواں سال ماہ جون میں صدر مرسی کے خلاف مظاہروں کو مرسی حکومت نے روائتی سکیورٹی ہتھکنڈوں سے روکنے سے گریز کیا۔ جس کی وجہ سے مصر ایک اور انسانی المیے سے بچ گیا۔

عبوری حکومت اور سکیورٹی فورسز نے 43 افراد کے مارے جانے اور فوج کے بارے میں عوامی غم و غصہ کے اظہار کو روکنے کیلیے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں کیونکہ اندیشہ ہے کہ اخوان سڑکوں پر آ جائیں گے۔ المسلمون کے حامی بھی اس موقع پر اپنے ہلاک شدگان کے حق میں سڑکوں پر آ جائیں گے۔