.

جنرل اسمبلی میں فلسطین کا پہلی مرتبہ رائے شماری میں ووٹ

اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کی مکمل رُکنیت کی جانب اہم قدم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی وفد نے پہلی مرتبہ معمول کی رائے شماری میں حصہ لیا ہے اور اپنا ووٹ ڈالا ہے۔فلسطینی وفد نے اس اقدام کو مکمل رکنیت کی جانب اہم قدم قراردیا ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصراعلیٰ ،سفیرریاض منصور نے ایک سو ترانوے ارکان پر مشتمل جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سابق یوگوسلاویہ کے لیے ایک بین الاقوامی ٹرائبیونل کے جج کے انتخاب میں حصہ لیا ہے۔اسمبلی نے ٹوگو سے تعلق رکھنے والے کوفی کومیلو آفندی کو عدالت کا جج منتخب کیا ہے۔

فلسطینیوں نے ایک سال قبل اقوام متحدہ میں اپنا درجہ مبصر سے ''غیررکن ریاست'' ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور یہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔

ریاض منصور نے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ فلسطینیوں کی اقوام متحدہ میں جدوجہد کی تاریخ میں بڑا ہی اہم اور علامتی واقعہ ہے کیونکہ عالمی برادری خاص طور پر جنرل اسمبلی فلسطین کو عالمی ادارے کا مکمل رکن بنانے کی منتظر تھی''۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ فلسطینی بطور ریاست بہت جلد اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن دوسری جانب امریکا نے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ فلسطینیوں کی اس کوشش کی مخالفت سے دستبردار ہو گیا ہے یا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال امریکا نے سلامتی کونسل میں فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی مخالفت کی تھی جس کے بعد جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے ذریعے اس کا درجہ بڑھانے کی منظوری دے دی گئی تھی اور اس کو ویٹی کن کی طرح مبصر سے غیر رکن ریاست کا درجہ مل گیا تھا۔

اس سے فلسطین کو بطور ریاست جنرل اسمبلی میں رائے شماری میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگیا تھا اور وہ عالمی اداروں میں بھی شمولیت اختیار کرسکتی ہے۔ فلسطینیوں نے اس کے بعد معاہدۂ روم میں شمولیت کی بھی دھمکی دی تھی۔اس معاہدے کے تحت ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) قائم کی گئی تھی۔

تاہم ابھی تک فلسطینیوں نے آئی سی سی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔البتہ انھیں اقوام متحدہ کے تحت سائنسی ،تعلیمی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کی رکنیت مل گئی تھی۔اس کے ردعمل میں امریکا اور اسرائیل نے پیرس میں قائم اس ادارے کے فنڈز روک لیے تھے۔یونیسکو نے ان دونوں ممالک کے اس اقدام کے خلاف اسی ماہ کے آغاز میں ان کا ووٹ دینے کا حق سلب کر لیا ہے۔