.

'' مبارک کے انٹیلی جنس چیف جہادیوں کے فرار پر خوف زدہ تھے''

''جہادی انقلابی نوجوانوں کا استحصال کرکے مصر میں افراتفری پھیلا سکتے تھے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو فرروری 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں رخصتی سے قبل جیلوں سے بیسیوں جہادیوں کے فرار پر سب سے زیادہ فکر لاحق تھی۔

اس بات کا انکشاف حسنی مبارک کے آخری دنوں کے نائب صدر اور اس سے پہلے انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان نے ایک ریکارڈ بیان میں کیا تھا۔اس کے مندرجات کو مصری نیوز ویب سائٹ یوم 7 نے منگل کو شائع کیا ہے۔

اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''جہادی معاشرے کو گمراہ سمجھتے ہیں اور جیل سے ان کا فرار بہت ہی خطرناک ہے۔میں ان جہادیوں سے خوفزدہ ہوں جو تشدد کے خاتمے کے لیے اقدام کا انکار کرچکے ہیں''۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مصر کے سابق انٹیلی جنس نے یہ بیان ایوان صدر میں ایک اجلاس کے دوران دیا تھا۔اس کے چند روز کے بعد قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں تشدد کا بدترین واقعہ پیش آیا تھا جس کو بعد میں ''اونٹ کی جنگ'' کا نام دیا گیا تھا کیونکہ اس میں حسنی مبارک کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی میں اونٹ استعمال کیے تھے۔

عمر سلیمان نے اس ریکارڈنگ میں کہا تھا کہ جہادی قیدی غیر ملکی گروپوں اور خاص طور پر القاعدہ سے وابستہ ہیں اور وہ انقلاب میں شریک نوجوانوں کا استحصال کر کے مصر میں افراتفری پھیلا سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ حسنی مبارک اپنی رخصتی سے قبل جنوری 2011ء میں مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کو تیار تھے۔ان کے بہ قول ''نوجوانوں کے انقلاب کے اپنے فوائد ہیں لیکن ہمیں اپنی تاریخ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔لفظ ''رخصتی'' لوگوں کے مورال سے لگا نہیں کھاتا''۔ان کا اشارہ مظاہرین کے اس نعرے کی جانب تھا جس میں وہ حسنی مبارک سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جنوری 2011ء میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران غیرملکی پارٹیاں انقلاب کی حمایت کررہی تھیں اور اس کا مقصد مصر کی سکیورٹی کو خطرات سے دوچار کرنا تھا۔

عمر سلیمان نے مصری آئین کی دفعہ 76 میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔یہ دفعہ صدارتی انتخابات سے متعلق ہے۔انھوں نے کہا کہ آئین میں ایسی ترمیم لانے کی ضرورت ہے جس کے تحت صدر دومدت کے لیے برسراقتدار رہے اور اس سے اقتدار کی مرکزیت قائم کرنے میں مدد ملے گی۔انٹیلی جنس چیف نے امن وامان کی عدم موجودگی میں قبل از وقت انتخابات پر بھی انتباہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ عمر سلیمان سابق صدر حسنی مبارک کے سب سے معتمد ساتھی رہے تھے۔انھیں مصر کا ''بلیک باکس'' بھی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ بہت سے خفیہ رازوں کے امین تھے۔انھیں مصر کے علاوہ پوری دنیا میں بھی سب سے طاقتور انٹیلی جنس چیف سمجھا جاتا تھا۔

حسنی مبارک نے انھیں اپنے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے فوری بعد ملک کا نائب صدر مقرر کردیا تھا اور فروری 2011 ء میں وہ انھی کو اقتدار سونپ کر قاہرہ سے الشرم الشیخ چلے گئے تھے۔عمر سلیمان مختصر علالت کے جولائی 2012ء میں امریکا میں انتقال کرگئے تھے۔