.

شامی فوج کا تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے قارہ پر قبضہ

حمص اور دمشق کے درمیان اہم شاہراہ بھی سرکاری فوج کے کنٹرول میں آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے چار روز کی فضائی بمباری کے بعد قلمون کے پہاڑی علاقے میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے قارہ اور دارالحکومت دمشق اور وسطی شہرحمص کے درمیان واقع شاہراہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

شامی فورسز کے ایک ذریعے نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہےکہ ''فوج نے تین روز کی لڑائی کے بعد قارہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے ہیں''۔شامی حکام مزاحمت کاروں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

لبنان کی سرحد کے نزدیک اور دمشق سے ایک سو کلومیٹر شمال میں واقع اس قصبے پر شامی فضائیہ نے گذشتہ چار روز سے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے تھےاور بری فوج اس قصبے پر قبضے کے لیے زمینی کارروائی کررہی تھی۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے میڈیا کو بتایا کہ ''قارہ پر اتوار کی صبح سے فضائی حملے جاری تھے''۔

یہ قصبہ شامی باغیوں کے لیے لبنان سے ہتھیاروں اور اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ کے لیے اہم گذرگاہ رہا ہے اور اب اس پر اسدی فوج کے قبضے کے بعد وہ رسد پہنچانے کے اس اہم راستے سے محروم ہوگئے ہیں۔

صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے قبضے سے قبل اس قصبے کا مکمل محاصرہ کرلیا تھا جس کے بعد وہاں سے قریباً ایک ہزارسات سو خاندان سرحد عبور کرکے لبنانی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔لبنان میں پہلے ہی آٹھ لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں جو کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

اس قصبے پر قبضے کے لیے لڑائی میں شامی فوج کو لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ان کے مدمقابل باغیوں کو القاعدہ سے وابستہ جہادیوں کی مدد حاصل تھی لیکن وہ یا تو شکست سے دوچار ہوگئے ہیں یا پھر دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

اسی قصبے میں شامی فوج کا اسلحے کا ایک بڑا ڈپو بھی بتایا جاتا ہے اور گذشتہ ہفتوں کے دوران اسدی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں اس قصبے کے کئی حصے تباہ ہوچکے ہیں۔اس کے نواح میں قلمون کا پہاڑی علاقہ واقع ہے اوراس پر قبضے کے لیے بھی شامی فوج گذشتہ کئی ہفتوں سے باغیوں سے نبرد آزما ہے۔