.

سعودی عرب:بیروت میں بزدلانہ بم حملوں کی شدید مذمت

انسانی جانوں کے ضیاع پرمتاثرہ خاندانوں،لبنانی حکومت اورعوام کے ساتھ اظہارتعزیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں گذشتہ روزایرانی سفارت خانے کے باہر دو خودکش بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور انھیں دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی قراردیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے بدھ کو ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ''سعودی مملکت کی حکومت لبنانی دارالحکومت بیروت میں گذشتہ روز(منگل کو) دہشت گردوں کے بزدلانہ بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتی ہے''۔

سرکاری بیان میں سعودی مملکت نے بم دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں ،لبنانی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے اور زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

ان خودکش بم دھماکوں میں ایران کے کلچرل اتاشی براہیم انصاری سمیت تئیس افراد ہلاک اور کم سے کم ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے تھے اور یہ لبنانی دارالحکومت میں گذشتہ کئی برس کے بعد تباہ کن بم دھماکے تھے جن کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں اور عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔

لبنان میں القاعدہ سے وابستہ عبداللہ عزام بریگیڈز نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر ان دو خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔اس تنظیم کے رہ نما صالح عبدالله القرعاوی نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی مختصر تحریروں میں دھمکی دی ہے کہ جب تک حزب اللہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام سے واپس نہیں بلا لیا جاتا،اس وقت تک یہ حملے جاری رہیں گے۔

عبداللہ عزام بریگیڈز کے مذہبی رہ نما نے ٹویٹر پر ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ'' لبنان سے تعلق رکھنے والے دو سُنی ہیروز نے یہ دُہری فدائی کارروائی کی ہے''۔ایران کا سفارت خانہ لبنانی دارالحکومت کے ایسے علاقے میں واقع ہے جو طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمان محمد رعد نے مغرب ،اسرائیلی اتحاد اور علاقائی طاقتوں پر اس بم حملے کا الزام عاید کیا ہے جو ان کے بہ قول سنی اسلام پسندوں کے ''تکفیری'' گروپوں کی بم دھماکوں کے لیے پشت پناہی کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ان بم حملوں کا مقصد قتل ،سبوتاژ اور افراتفری کے پروگرام کو آگے بڑھانا تھا تاکہ لبنان کے قومی اتحاد کو خطرات سے دوچار کیا جاسکے اور اس کے استحکام کو نشانہ بنایا جاسکے''۔

ایران کی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیل پر بیروت میں دُہرے بم دھماکے کرانے کا الزام عاید کیا ہے۔وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخام نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ ''بم دھماکے ایک غیر انسانی جرم ہیں اور یہ صہیونیوں اور ان کے آلہ کاروں کی مذموم کارروائی ہیں''۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ ان بم دھماکوں کا شام میں جاری خانہ جنگی سے بھی کوئی تعلق تھا۔ایران کے سابق صدرابوالحسن بنی صدر نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے میں تباہ کن بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا تعلق شام میں جاری خانہ جنگی سے ہے۔

انھوں نے منگل کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ'' شام میں جو کچھ ہورہا ہے ،یہ ایک عالمی جنگ ہے،اس میں تمام علاقائی قوتیں ملوث ہیں۔ایران ،لبنان اور ترکی بری طرح اس جنگ میں شریک ہیں''۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کے بم دھماکے کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں اور شامی اور لبنانی عوام اس عالمی جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔