.

شام کے کیمیائی ہتھیار سمندر برد کرنے کی تجویز

بیشتر ممالک کا ایک ہزار ٹن کیمیائی ہتھیار اپنی سرزمین پر ٹھکانے لگانے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی ملک نے شام کے ایک ہزار ٹن سے زیادہ وزنی کیمیائی ہتھیار اپنے ہاں ٹھکانے لگانے سے اتفاق نہ کیا تو پھر ان کو سمندر برد کیا جا سکتا ہے۔

تنظیم کے ترجمان کرسٹیئن چارٹئیر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو غرقاب کرنے کی تجویز پر پہلے ہی غور کیا جاچکا ہے۔ان کے بہ قول شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے رکن ممالک کی جانب سے مختلف حل تجویز کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

او پی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل نے گذشتہ جمعہ کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو 2014ء کے وسط تک شام سے باہر لے جانے کے لیے حتمی لائحہ عمل کی منظوری دی تھی لیکن ان کو کیسے اور کہاں تلف کیا جائے گا،آیا انھیں سمندر برد کیا جائے گا یا زمین ہی میں کہیں تلف کردیا جائے گا،اس حوالے سے 17 دسمبر کو کونسل کوئی فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ روس اور امریکا کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کےلیے معاہدہ طے پانے کے بعد دنیا کے ممالک میں بھی اس ضمن میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے لیکن کوئی بھی ملک ان کو اپنے ہاں تلف کرنے پر ابھی تک آمادہ نہیں ہوا ہے۔

بیلجیئم نے گذشتہ جمعہ کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو اپنی سرزمین پر ضائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے پہلے البانیہ نے بھی عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ناروے پہلے ہی کیمیائی ہتھیاروں کو اپنی سرزمین پر ٹھکانے لگانے سے انکار کر چکا ہے۔

البتہ ناروے نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر کیمیائی ہتھیاروں کو شام سے کسی دوسرے ملک یا جگہ منتقل کرنے کے لیے بحری جہاز دینے کی پیش کش کی ہے۔فرانس نے اس سلسلے میں اپنی مہارتی خدمات فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے لیکن اس نے منگل کو اس بات کی تردید کی ہے کہ اس سے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔