.

عراق: چھ کار بم دھماکوں سمیت سات دھماکے، 24 ہلاک

دھماکوں میں 65 افراد زخمی ہو گئے، سخت سکیورٹی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شیعہ سنی جھگڑوں کی آماجگاہ بنے ہوئے عراق کا دارالحکومت بغداد بدھ کے روز دھماکوں سے لرز اٹھا۔ دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران 24 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہو گئے ہیں۔

عراق میں 2008 سے تشدد کی لہر جاری ہے، تاہم حالیہ چند مہینوں کے دوران تیزی آ گئی ہے۔ بدھ کے صبح ساڑھے سات بجے سے چھ کار بم دھماکوں سمیت مجموعی طور پر سات دھماکے ہوئے ہیں۔ دھماکوں کا بظاہر ہدف بغداد کے شیعہ اکثریت کے علاقے تھے۔ جن میں وقفے وقفے سے دھماکے ہوتے رہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے اس صورتحال میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے تھے، کئی علاقوں میں میڈیا کے لوگوں کو بھی کوریج سے روک دیا گیا۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ عراق کی وزارت صحت اور سکیورٹی حکام کے مطابق ان واقعات میں 24 شہری مارے گئے ہیں جبکہ 65 زخمی ہو گئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دہشت گردوں نے شام اور رات کے وقت کارروائیوں کی حکمت عملی اختیار کی تھی لیکن بدھ کے روز یہ حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے دھماکے صبح سویرے سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے عراق میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر وزیر اعظم نورالمالکی واشنگٹن سے مدد طلب کر چکے ہیں۔