.

مصر: سکیورٹی فورسز نے تحریر چوک خالی کرا لیا

مظاہرین فوج کے ہاتھوں مارے جانیوالوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلیے جمع تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک شہری کی ہلاکت کے بعد مصر کے سکیورٹی اداروں نے مظاہرین سے تحریر خالی کرا لیا ہے۔ مظاہرین حسنی مبارک کے دور میں فوج کے ہاتھوں 43 مارے جانے والےمظاہرین کی یاد کیلیے تحریر چوک پر جمع ہوئے تھے۔

مصر جو ان دنوں مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے لیکن حسنی مبارک دور میں مارے جانے والے چالیس سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے مصری عوام پر موجودہ حکمرانوں سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔

اسی وجہ سے تحریر چوک میں جمع ہونے والے مظاہرین نے فوجی حکومت مردہ باد کے نعرے بلند کر کے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔

اس بارے میں ایک سکیورٹی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ '' پولیس نے تحریر چوک کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا جب مظاہرین عرب لیگ کے دفتر کی طرف بڑھنا چاہتے تھے، اس وجہ سے عرب لیگ کے دفاتر کے پاس سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔''

سکیورٹی ذمہ دار کے مطابق ''پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کی اس دوران مظاہرین سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراو کیا، تاہم پولیس مظاہرین کو گلیوں کی طرف منتشر کرنے میں کامیاب رہی۔''

وزارت صحت نے ان واقعات میں 16 مظاہرین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، ان میں سے ایک زخمی کی آنکھ پر گولی لگی ہے۔

اس موقع پر ایک نوجوان نے کہا '' میں یہاں 2011 میں مارے جانے والے ایک دوست کے ساتھ یکجہتی کے لیے آیا ہوں، جس کے حقوق اسے نہیں دیے گئے ہیں۔''