.

خواتین کو گرفتار کرنیوالا افسر عسکری گروپ نے قتل کیا

سینائی میں متحرک انصارالبیت المقدس نے ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انصار بیت المقدس نامی عسکری گروپ نے اتوار کے روز قتل ہونے والے مصری سکیورٹی آفیسر لیفٹیننٹ کرنل محمد مبارک کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس فوجی افسر پر الزام تھا کہ اس نے خواتیں مظاہرین کو جیلوں میں بند کیا تھا۔

لیفٹیننٹ کرنل محمد مبارک مصر کے ان چند افسروں میں سے ایک تھا جس کی خوفناکی سے سب آگاہ تھے۔ عسکری گروپ کے مطابق اس آفیسر کو ہلاک کرنے کی وجہ خواتیں کیخلاف اس کے اقدامات بنے ہیں۔

سینائی سے تعلق رکھنے والے ایک عسکری گروپ نے اس سے پہلے وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے قافلے پر حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی ، یاد رہے وزیر داخلہ کے قافلے پر حملے کے دوران ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

ہلاکت کی ذمہ اری قبول کرنے والے گروپ نے کہا ہے کہ ''زیر حراست خواتین کو رہائی کرانے کیلیے حملوں کی سیریز کی یہ پہلی کارروائی تھی ، جس میں لیفٹیننٹ کرنل محمد مبارک مارا گیا ہے۔''

واضح رہے مصر کی عبوری حکومت کے پراسیکیوٹر ان دنوں 15 خواتین اور سات بچیوں پر معزول کیے گئے صدر محمد مرسی کی حمایت کرنے کے جرم میں مقدمے چلانے کی تیاری میں ہیں۔ ان عورتوں اور بچیوں پر سکندریہ میں مظاہرے کرنے کا الزام ہے۔

اس سے پہلے مرسی کے حق میں دھرنا دینے والے تقریبا ایک ہزار مظاہرین کو قاہرہ میں جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ عسکریت پسند گروپ انصاربیت المقدس نے صدر مرسی کی برطرفی کے بعد اپنی سینائی میں کاروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔