.

اسرائیل کو عالمی سطح پر نئے اتحادیوں کی تلاش

وہ پارٹنر چاہییں جنہیں عرب ملکوں کی مالی محتاجی نہ ہو: لائبرمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خارجہ آویگڈور لائبرمین نے ایرانی جوہری تنازعے میں امریکی رجحانات کے باعث اسرائیل کیلیے نئے اتحادیوں اور دوستوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کمزوری آ گئی ہے۔

واضح رہے اسرائیل کے زیادہ انتہا پسند سمجھے جانے والے وزیر خارجہ کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو روس کے دورے پر ہیں۔

لائبرمیں کا کہنا ہے کہ '' امریکا جسے شمالی کوریا، افغانستان، پاکستان، ایران، عراق کے مسائل کے علاوہ اپنے ہاں غیر معمولی اقتصادی مسائل کا بھی سامنا ہے۔''

انہوں نے مزید کہا'' ہمیں ضرورت ہے کہ ہم مطالبے کرنے، شکایات کرنے اور رونے پیٹنے کے بجائَے ان ملکوں کو اپنے اتحادی کے طور پر تلاش کریں جسے اپنی مالی مسائل کیلیے عرب اور اسلامی ملکوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہ ہو۔''

تاہم اسرائیل کے سفارتی سربراہ نے ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے کہ ان کا ملک نئے عالمی شراکت دار کے طور پر کن ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے اسرائیل دوٹوک انداز میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری ایشو پر معاہدے کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کیخلاف تنہا حملہ کرنے کا بھی اشارہ دے چکے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بیروت میں اپنے سفارت خانے پر ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری اسرائیل پر عاید کی ہے۔