.

جامعہ الازہر کے دو طلبہ ہلاک، جنرل سیسی کیخلاف نعرے

جامعہ کے احتجاجی طلبہ شیخ الازہر کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے بڑی جامعہ الازہر کے سربراہ کی برطرفی کا مطالبہ کرنے اور مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کیخلاف نعرے لگانے پر یونیورسٹی کے 2 طلبہ کو اس وقت موت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ یونیورسٹی کے انتظامی شعبے کی طرف بڑھ رہے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے اس موقع پر درجنوں طلبہ کو حراست میں بھی لیا ہے۔ واضح رہے پچھلے ہفتے کے دوران حراست میں لیے گئے 12 طلبہ کو سترہ سترہ سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ الازہر کے طلبہ نے شیخ الازہر احمد الطیب کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے جامعہ کے تعلیمی کیمپس سے انتظامی بلاک کی طرف مارچ کیا۔ احتجاجی مارچ کرنے والے طلبہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔

یہ طلبہ جہاں شیخ الازہر کی اس لیے برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے کہ شیخ الزہر فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کو تقویت دے رہے ہیں وہیں یہ طلبہ جنرل عبدالفتاح کے خلاف بھی نعرہ زنی کر رہے تھے۔

جامعہ کے تعلیمی کیمپس سے انتظامی بلاک کی طرف بڑھنے والے ان 1500 طلبہ کو سکیورٹی فورسز نے انتظامی بلاک کی طرف بڑھنے سے روک کر واپس یونیورسٹی کے مین کیمپس کی طرف جانے پر مجبور کر دیا۔

اسی دوران جامعہ الازہر کے دو طلبہ جاں بحق ہو گئے۔ اس دوران یہ بھی افواہ پھیل گئی کہ مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے جامعہ کے انتظامی بلاک کو جلا دیا ہے، تاہم بعد میں اس کی تصدیق نہیں ہوئی البتہ جامعہ میں بعض درختوں کے جلنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

جامعہ الازہر میں گزشتہ تقریبا دو ماہ سے ایسے طلبہ کا احتجاج وقفے وقفے سے سامنے آ رہا ہےجو سب سے زیادہ جنرل سیسی کو اپنے غم و غصے کا ہدف بناتے ہیں۔