.

عسکریت پسند عراقی تنظیم کا سعودی سرحدی شہر پر راکٹ حملہ

حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے سیکیورٹی حکام نے اطلاع دی ہے کہ اورعراق کویت کی سرحد سےمتصل علاقے"حفر الباطن" میں نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے ہاون طرز کے چھے راکٹ داغے گئے تاہم ان میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

ابتدائی طور پرعراق کی ایک شدت پسند تنظیم کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی بھی دھمکی دی گئی ہے۔ سعودی بارڈر پولیس نے پڑوسی ملکوں کویت اورعراق کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "واس" نے بارڈر فورس کے ترجمان کرنل محمد الغامدی کے حوالے سے بتایا کہ مشرقی سعودی عرب میں کویت کی سرحد سے متصل "العوجا سینٹر" کے قریب بدھ کے روز چھ ہاون راکٹ گرے۔ یہ راکٹ ویران علاقے میں گرنے کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سیکیورٹی ترجمان نے بتایا کہ واقعےکے فوری بعد بارڈر حکام نے پڑوسی ملکوں سے رابطہ کرکے راکٹ حملوں کے بارے میں صورت حال سے آگاہ کیا اور مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ اس ضمن میں پڑوسی ملکوں [کویت اور عراق] کو مطلع کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

ادھرعراقی حکومت کے ایک عہدیدار آج [جمعرات] کو بتایا کہ ان کی سرزمین سے سعودی عرب میں کوئی راکٹ حملہ نہیں کیا گیا ہے۔ بصرہ گورنری کی سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین جبارالسعدی نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ کویت کی سرحد سے متصل سعودی علاقے میں کئی راکٹ گرے ہیں۔ ہم نے بارڈر پولیس کی مدد سے تحقیقات شروع کر دیں ہیں تاہم میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب پر حملوں کے لیے عراق کی سر زمین استعمال نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ عراق اورکویت کی سرحدوں سے متصل سعوی شہر "حفر الباطن" ملک کا اہم تزویراتی علاقہ ہے۔ صدام حسین کے دورحکومت میں عراق۔کویت جنگ میں اس علاقے میں عالمی امن فوج کا علاقائی ہیڈ کواٹرز رہا ہے۔ اگست 1990ء کوعراق نے کویت پر حملہ کیا تو یہیں سے عالمی امن فوج نے صدام حسین کی فوجوں کو مار بھگایا تھا۔