.

لبنان میں موجود سعودی شہریوں کو خطرے کے پیش نظر انخلاء کی ہدایت

حزب اللہ کے حامی میڈیا ذرائع کی سعودی عرب مخالف مہم کے بعد انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیروت میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے لبنان میں خطرناک صورت حال کے پیش نظر اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔

لبنانی دارالحکومت میں متعین سعودی سفیر علی عواض العسیری نے بتایا ہے کہ ''سعودی سفارت خانے نے لبنان میں موجود سعودی شہریوں کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا ہے جس میں انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرناک صورت حال کے پیش نظر اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے اس ملک سے چلے جائیں''۔

سعودی سفارت خانے کی جانب سے یہ انتباہ بیروت میں ایران کے سفارت خانے کے باہر دو خودکش بم دھماکوں کے دو روز بعد کیا گیا ہے۔ان دونوں بم دھماکوں میں ایران کے کلچرل اتاشی براہیم انصاری سمیت پچیس افراد مارے گئے ہیں اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے حامی میڈیا کے ذرائع نے سعودی عرب کے خلاف ایک مہم برپا کررکھی ہے جس میں اس پر بیروت میں بم دھماکے کا الزام عاید کیا جارہا ہے۔

سعودی سفارت خانے کی جانب سے شہریوں کو بھیجے گئے پیغام میں بھی اس مخالفانہ مہم کا حوالہ دیا گیا ہے۔حزب اللہ کے حامی روزنامے الاخبار نے بدھ کی اشاعت میں بم دھماکوں کے حوالے سے ایک یہ سرخی جمائی تھی:''سعودی عرب:شام میں خسارے میں اور لبنان میں خودکش حملہ''۔

الاخبار نے جمعرات کو لکھا کہ ''لبنان خودکش بم دھماکوں کے دور میں داخل ہوگیا ہے اور حملہ آور تکفیری (انتہا پسند سنی) ورثے سے تعلق رکھتے تھے جس کو سعودی مملکت نے لاکھوں ڈالرز کے ساتھ اسپانسر کیا تھا''۔

سعودی عرب نے بیروت میں منگل کوایرانی سفارت خانے کے باہر دو خودکش بم دھماکوں کی شدید مذمت کی تھی اور انھیں دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی قراردیا تھا۔ایک سرکاری بیان میں سعودی مملکت نے بم دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں ،لبنانی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے اور زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

لبنان میں القاعدہ سے وابستہ عبداللہ عزام بریگیڈز نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر ان دو خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس تنظیم کے رہ نما صالح عبدالله القرعاوی نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی مختصر تحریروں میں دھمکی دی ہے کہ جب تک حزب اللہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام سے واپس نہیں بلا لیا جاتا،اس وقت تک یہ حملے جاری رہیں گے۔واضح رہے کہ ایران کا سفارت خانہ لبنانی دارالحکومت کے ایسے علاقے میں واقع ہے جو طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔