.

مغربی صحارا میں تیل کی تلاش، مراکش اور پولیساریو میں کشیدگی کا انتباہ

فریقین میں ہونے والی فائربندی خطرے میں پڑنے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش حکومت کی جانب سے متنازعہ مغربی صحارا کے ساحل سمندر پر تیل کی تلاش کے منصوبوں سے خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رباط حکومت نے متنازعہ علاقہ کے ساحلی علاقوں میں تیل کی تلاش کے لیے کئی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت دی ہے، جس کے بعد صحارا کی علاحدگی پسند تنطیم پولیساریوں عوامی محاذ اور مراکش کے درمیان تناؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ پولیساریو فرنٹ کئی سال تک مغربی صحارا کی مراکش سے علاحدگی کے لیے مسلح جدوجہد کرتی چلی آ رہی ہے۔ سنہ 1991ء میں مراکش اور فرنٹ کے درمیان اقوام متحدہ کی نگرانی میں عارضی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے بعد اگرچہ پولیساریو نے مسلح جدوجہد ترک کر دی تھی مگر سفارتی اور سیاسی محاذ پر اس کی مساعی جاری ہیں۔

مبصرین کے خیال میں مراکش حکومت کی جانب سے مغربی صحارا کے متنازعہ علاقوں میں تیل کی تلاش کے لیے غیرملکی فرموں کو ٹھیکے دینا علاقائی امن وسلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ علاحدگی پسند صحارا میں رباط کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ نیز اس اقدام سے تنازعہ کے پرامن حل کے لیے جاری کوششوں کو بھی دھچکا لگے گا۔

واضح رہے کہ مراکش حکومت کی جانب سے تیل کی تلاش کے لیے یہ منصوبے حال ہی میں اس وقت شروع کیے گئے تھے جب رباط نے ملک میں توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے قدرتی تیل کے مزید وسائل کی تلاش کا فیصلہ کیا تھا۔ جنوبی صحارا اور اس کی ساحلی پٹی قدرتی تیل اور دیگر معدنیات کے حوالے سے زرخیرعلاقے سمجھے جاتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں رباط نے تیل تلاش کرنے والی غیرملکی فرموں کو سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے ساتھ علاقے کی تعمیرو ترقی کے لیے 17 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔