.

کویت کی قومی فضائی کمپنی کی عراق کے لیے پروازوں کا آغاز

1990ء کے عشرے میں عراق کی چڑھائی کے بعد کویت ائیرویز کی پروازوں کی بحالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی قومی فضائی کمپنی نے عراق کے لیے تیئس سال کے بعد اپنی پروازیں بحال کردی ہیں اور کویت ائیرویز کی پہلی پرواز بدھ کی رات عراق کے جنوبی شہر نجف میں اتری ہے۔

کویت کے انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے ڈائریکٹر نے سرکاری خبررساں ایجنسی کونا کو جمعرات کو بتایا ہے کہ نجف جانے والی اس پرواز میں ایک سو مسافر سوار تھے اور ان میں زیادہ تر وہاں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے گئے ہیں۔

کونا کے مطابق کویت ائیرلائنز نجف کے لیے ہفتے میں دوپروازیں چلائے گی کیونکہ اس شہر کو عراقی دارالحکومت بغداد کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے جہاں آئے دن بم دھماکے اور تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کی فوجوں کی کویت پر چڑھائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے ساتھ فضائی رابطے بھی ختم ہوگئے تھے۔گذشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان 1991ء کی جنگ خلیج کے دور کے قرضوں پر تصفیہ طے پاگیا تھا جس کے بعد سے ان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

اس دوران امیر کویت نے عراق اور عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے کویت کا دورہ کیا ہے جس سے دونوں پڑوسی ممالک میں اختلافات کے خاتمے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں مدد ملی ہے۔

کویت ائیرویز کی عراق کے لیے پروازوں سے قبل فروری میں عراق کی قومی فضائی کمپنی نے کویت کے لیے پروازیں شروع کردی تھیں لیکن عراق سے کویت آنے والی بیشتر پروازیں دبئی اور دوسرے شہروں سے ہوکر آتی ہیں حالانکہ بغداد اور کویت سٹی کے درمیان کل 560کلومیٹر فاصلہ ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں کویت ائیرویز نے عراقی ائیرویز کے خلاف پچاس کروڑ ڈالرز ہرجانے کے بدلے میں تمام کیس واپس لے لیے تھے۔ان دونوں کمپنیوں کے درمیان صدام حسین کی فوجوں کی عراق پر چڑھائی کے بعد سے تنازعہ چلا آرہا تھا اور ان کی فوج نے کویتی کمپنی کے طیارے اور ان کے آلات ضبط کر لیے تھے۔کویت نے ان طیاروں اور آلات کی واپسی اور ان کے معاوضے کے لیے عالمی عدالتوں میں عراق کے خلاف مقدمات دائر کررکھے تھے۔